کراچی: شارع فیصل پر پولیس کار کو ٹکر مار کر فرار ہونے والے ڈمپر ڈرائیور نے گرفتاری دے دی
ڈمپر ڈرائیور کی گرفتاری
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) شارع فیصل پر پولیس کار کو ٹکر مار کر فرار ہونے والے ڈمپر ڈرائیور نے خود گرفتاری دے دی اور اس کا ڈمپر بھی ضبط کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ، سول ڈیفنس کے تمام عملے کو شہری دفاع کے لیے فیلڈ آپریشنز کا حکم
واقعے کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کی جانب سے روکنے پر فرار ہونے والے ڈمپر ڈرائیور نے خود گرفتاری دی۔ ڈمپر ڈرائیور کے فرار کی ویڈیو دو روز قبل وائرل ہوئی تھی، جسے کار میں سوار ٹریفک پولیس کے اہلکار روکنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ڈرائیور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی کو ٹکر مارتے ہوئے فرار ہوگیا۔ تیز رفتاری کے باعث دیگر گاڑیوں میں سوار شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی شادی پر 4 ارب کی سلامی لینے والے بیوروکریٹ کا نام سینئر تجزیہ کار عامر راؤ سامنے لے آئے۔
ٹریفک پولیس کا اقدام
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹریفک پولیس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اس ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود اور دیگر سے رابطہ کیا گیا۔ پہلے تو انہوں نے وقت مانگا بعد میں وہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے اور ڈمپر و ڈرائیور کو پیش نہ کرسکے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز
کریک ڈاؤن کی کارروائیاں
نتیجے کے طور پر ٹریفک پولیس نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا اور 142 ڈمپروں کو چالان اور بھاری جرمانے عائد کئے گئے۔ 27 ڈمپر ضبط اور محض ایک ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو خفیہ طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، عطا تارڑ کے اعتراف نے وفاقی حکومت کا جھوٹ بے نقاب کر دیا، شفیع جان
آنے والے اقدامات
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کارروائی بلاتعطل جاری رہے گی تاہم رات میں فرار ہونے والے ڈمپر ڈرائیور نے گرفتاری دے دی۔ ڈمپر بھی ضبط کرلیا گیا اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ڈرائیور کی وضاحت
پولیس حکام کے مطابق، ڈرائیور نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ کچھ موٹر سائیکل سوار پیچھا کر رہے تھے، اس لئے وہ گھبرا گیا تھا کہ آگ نہ لگادیں۔ پولیس سے بھی اسی لئے بچ کر بھاگا کہ پولیس بھی آگ لگانے والوں کو نہیں روک پاتی۔








