قومی اسمبلی: غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور
قومی اسمبلی میں قرار داد کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی میں غزہ میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف قرار داد پیش کی گئی، جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے 3 اراکین کے دستخطوں کے بغیر ہی محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی درخواست جمع کرادی گئی
وزیر قانون کا اظہار خیال
روز نامہ جنگ کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایوان فلسطینی بہن بھائیوں کی حمایت اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، فلسطین ہو یا کشمیر، بارود سے ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی، نہ ہسپتال نہ ہی ایمبولینس اور نہ ہی امدادی کارکن محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آٹھویں شارجہ انویسٹمنٹ فورم کا باضابطہ افتتاح، دنیا بھر سے 140 ممالک کے عالمی رہنماؤں کی شرکت
فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
وزیر قانون نے کہا کہ فلسطین میں ہسپتالوں اور رفاہی اداروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کا سلسلہ فوری طور پر رکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے پائیدار حل کے لئے ہمیں مل کر بیٹھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں مزید 600 ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے جائیں گے: پارلیمانی سیکرٹری سعدیہ تیمور کا تقریب سے خطاب
غزہ کی صورتحال پر وفاقی وزیر کی رائے
غزہ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات عطاءتارڑ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی پٹیشن کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ان ملکوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے جنوبی افریقہ کی پٹیشن کی حمایت کی۔
امدادی کوششوں کی تعریف
عطاءتارڑ نے کہا کہ غزہ کو امداد بھیجنے پر الخدمت فاونڈیشن اور جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جماعت اسلامی اس ایوان میں نہیں ہے مگر ان کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے نے الخدمت فاو¿نڈیشن کی امداد غزہ تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔








