یو ایس ایڈ بند کرانے والے ٹرمپ کے اہم عہدیدار پیٹ ماروکو نے وزارت خارجہ چھوڑ دی
ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار کی دفتر خارجہ سے روانگی
واشنگٹن(آئی این پی) ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیدار پیٹ ماروکو، جنہوں نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا تھا، نے محض تین ماہ بعد امریکی محکمہ خارجہ چھوڑ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی انتقال کرگئے
امدادی پروگرامز میں کٹوتیاں
ماروکو خارجی امدادی پروگرامز کے نگران کے طور پر کام کر رہے تھے اور انہوں نے 83 فیصد امریکی غیر ملکی امدادی منصوبے منسوخ کر دیے تھے۔ ان کا مقصد امداد کو محکمہ خارجہ اور "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE)" کے ماتحت لانا تھا، جس کی قیادت ارب پتی ایلون مسک کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ای چالان سسٹم کا افتتاح
تاریخی کارنامے یا جبری روانگی؟
اگرچہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے ماروکو کی کوششوں کو "تاریخی کارنامہ" قرار دیا، لیکن ذرائع کے مطابق ان کا روانہ ہونا جبری تھا۔ ان کی مارکو روبیو اور دیگر سینئر عہدیداران سے امدادی کٹوتیوں پر شدید اختلافات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ میں 5 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان ہو گیا
وائٹ ہاؤس میں ملاقات اور برطرفی
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کے بعد انہیں ان کی برطرفی سے آگاہ کیا گیا۔ ماروکو نے اس پر ابھی تک کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جہاز گرنے پر چینیوں نے بھارت کا مذاق اُڑانا بند نہ کیا، ایک اور ویڈیو آ گئی، دیکھ کر بھارتیوں کو غصہ آجائے
سینیٹر برائن شاٹز کا موقف
سینیٹر برائن شاٹز، جو سینیٹ کی امدادی کمیٹی میں ڈیموکریٹس کی قیادت کر رہے ہیں، نے ماروکو کی پالیسیوں کو "انتہائی بدنظمی کا شکار" قرار دیا اور خبردار کیا کہ ان کا اثر ابھی باقی امدادی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔
آنے والے اصلاحات کا خاکہ
وزارت خارجہ اس ہفتے USAID کی تحلیل شدہ ذمہ داریوں کی ازسرِ نو تنظیم کا خاکہ "آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ" کو پیش کرے گی۔ اس وقت باقی ماندہ امدادی پروگرامز DOGE کے ایک مقرر کردہ افسر کی زیر نگرانی ہیں۔








