نیلم جہلم پراجیکٹ کی بار بار بندش سے سالانہ کتنا نقصان ہورہا ہے؟ تہلکہ خیز انکشاف
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا بحران
اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر آبی وسائل نے کہا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بار بار بندش سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں 3آپریشنز میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے 6جوانوں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آگئیں
بندش سے نقصان کا تخمینہ
وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بندش کے حوالے سے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کرادیا، جس میں کہا گیا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بار بار بندش سے قومی خزانے کو سالانہ 24 ارب نقصان کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلبرگ لاہور میں وکلا برادری کا عظیم ناشتہ، بار الیکشن مہم میں نئی سرگرمی
بندش کی وجوہات
وفاقی وزیر آبی وسائل نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہیڈریس ٹنل میں خرابی کے باعث مئی 2024 سے بند ہے، ڈیم کی سائٹ سے 9.8 کلومیٹر کی دوری پر ہیڈریس ٹنل میں خرابی آگئی جس کی وجہ سے پراجیکٹ کو دوبارہ بند کرنا پڑا۔ منصوبے کی بحالی کے لیے ٹھیکیدار کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
تحقیقات کا آغاز
وفاقی وزیر نے کہا کہ منصوبے کی بندش کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت نے تین کمیٹیاں تشکیل دیں، کمیٹیوں کے علاوہ حکومت نے تحقیقات کے لیے کینیڈین فرم کی خدمات بھی حاصل کیں۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ کینیڈین فرم ڈین براکس نے تحقیقات مکمل کر کے 18 مارچ کو رپورٹ جمع کرادی، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔








