فیصل آباد موٹروے پر شوہر کے سامنے بیوی سے زیادتی کرنے والا ڈاکو پولیس مقابلے میں مارا گیا
موٹر وے پر اجتماعی زیادتی کا واقعہ
فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیصل آباد کے علاقے ساندل بار میں موٹر وے پر پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے لرزہ خیز واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ واقعے کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لئے 4 پارٹیاں شارٹ لسٹ
مرکزی ملزم کی ہلاکت
پولیس کے مطابق ملزم کو ریکوری کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے اُسے چھڑوانے کی غرض سے پولیس وین پر فائرنگ کر دی۔ جوابی کارروائی میں مرکزی ملزم مارا گیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: الحمدللّٰہ بولی کا عمل انتہائی شفاف رہا: وزیرِ اعظم کا پی آئی اے کی کامیاب بڈنگ پر اظہار تشکر، قوم کو مبارکباد
پہلا واقعہ
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں تھانہ ساندل بار کی حدود میں واقع موٹر وے پل 62 ج ب چنن کے قریب دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں دورانِ ڈکیتی تین مسلح ملزمان نے ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے ویمن فیوچر ٹور پروگرام 29-2025کا اعلان کردیا
متاثرہ خاتون کی کہانی
عدنان نامی شہری اپنی اہلیہ کو زرعی یونیورسٹی ہاسٹل جھنگ روڈ سے چک 62 ج ب چنن لے کر جا رہا تھا کہ راستے میں موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کو اسلحے کے زور پر روک لیا۔ لوٹ مار کے بعد شوہر کو درخت سے باندھ دیا اور خاتون کو کماد (گنے) کے کھیت میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 5 افراد جاں بحق
پولیس کے اقدامات
اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد صاحبزادہ بلال عمر نے ایس پی اقبال ٹاؤن عابد ظفر کو فوری ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کے شوہر کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 339/25 تھانہ ساندل بار میں درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔
کیس میں پیش رفت
ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک ہفتے کے اندر مرکزی ملزم سمیت دیگر ملزمان کا سراغ لگا لیا تھا، تاہم آج مرکزی ملزم کی ہلاکت کے بعد کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا。







