فیصل آباد موٹروے پر شوہر کے سامنے بیوی سے زیادتی کرنے والا ڈاکو پولیس مقابلے میں مارا گیا
موٹر وے پر اجتماعی زیادتی کا واقعہ
فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیصل آباد کے علاقے ساندل بار میں موٹر وے پر پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے لرزہ خیز واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ واقعے کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اینٹوں کے بھٹوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور بچوں کی مزدوری کا خاتمہ’’یہ محض اصلاحات نہیں،انسانی حقوق کا انقلاب ہے۔ الحمدللہ‘‘مریم اورنگزیب
مرکزی ملزم کی ہلاکت
پولیس کے مطابق ملزم کو ریکوری کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے اُسے چھڑوانے کی غرض سے پولیس وین پر فائرنگ کر دی۔ جوابی کارروائی میں مرکزی ملزم مارا گیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا چینی طلباء کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان
پہلا واقعہ
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں تھانہ ساندل بار کی حدود میں واقع موٹر وے پل 62 ج ب چنن کے قریب دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں دورانِ ڈکیتی تین مسلح ملزمان نے ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس چھپا کر عدالت کو گمراہ کر رہی ہے، حافظ فرحت عباس
متاثرہ خاتون کی کہانی
عدنان نامی شہری اپنی اہلیہ کو زرعی یونیورسٹی ہاسٹل جھنگ روڈ سے چک 62 ج ب چنن لے کر جا رہا تھا کہ راستے میں موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کو اسلحے کے زور پر روک لیا۔ لوٹ مار کے بعد شوہر کو درخت سے باندھ دیا اور خاتون کو کماد (گنے) کے کھیت میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کا ٹرائل ابھی شروع نہیں ہوا ہے، نجی نیوز چینل کے پروگرام میں خواجہ آصف کی تصدیق
پولیس کے اقدامات
اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد صاحبزادہ بلال عمر نے ایس پی اقبال ٹاؤن عابد ظفر کو فوری ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کے شوہر کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 339/25 تھانہ ساندل بار میں درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔
کیس میں پیش رفت
ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک ہفتے کے اندر مرکزی ملزم سمیت دیگر ملزمان کا سراغ لگا لیا تھا، تاہم آج مرکزی ملزم کی ہلاکت کے بعد کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا。








