کیا چین امریکی قرض کو تجارتی جنگ میں بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟
چین-امریکہ تجارتی جنگ کی شدت
بیجنگ/واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سخت ترین ٹیرف عائد کیے ہیں۔ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ "آخری حد تک لڑنے" کے لیے تیار ہے۔ یہ تجارتی جنگ محض ٹیرف یا برآمدات تک محدود نہیں بلکہ معاشی میدان میں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی جنگ بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا
چین کا خطرناک ہتھیار: امریکی قرض
ایسے میں چین کے پاس ایک ایسا ہتھیار موجود ہے جو روایتی تجارتی پابندیوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اور وہ امریکی قرض ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق چین اس وقت امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا قرض خواہ ہے جو 760 ارب ڈالر کے امریکی ٹریژری بانڈز رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین یہ قرض فروخت کر کے امریکی ڈالر کی قدر کو کم کر سکتا ہے جس سے امریکہ کی معیشت پر بڑا اثر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شعیب اختر بھارت کے خلاف میچ میں فخر زمان کے غلط آؤٹ پر بول پڑے
امریکی معیشت پر اثرات
اس سے امریکی سود کی شرحوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور گھریلو اخراجات متاثر ہوں گے۔ اس اقدام کو ماہرین معاشیات نے "نیوکلیئر آپشن" کا نام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم نے 2021ء کے بعد سے کسی بھی فل ممبر ٹیم کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک بھی چھکا نہیں مارا۔
چین کی حکمت عملی کے نقصانات
البتہ اس حکمتِ عملی سے چین کو بھی نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ ڈالر کی قدر میں کمی کا مطلب یہ ہوگا کہ چین کے پاس موجود ڈالر اثاثوں کی قیمت کم ہو جائے گی، جبکہ یوان کی قدر بڑھ جائے گی جو چینی برآمدات کو مہنگا بنا دے گا۔ دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو اس اقدام کا مقابلہ کرنے کیلئے کوانٹیٹیٹیو ایزنگ کا استعمال کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں یومیہ 1200 روپے سے کم کمانے والے افراد اب غریب تصور ہوں گے، عالمی بینک
امریکہ کی مالیاتی پالیسی کے چیلنجز
اس اقدام کے ذریعے مارکیٹ میں سرمائے کا اضافہ کر کے اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکتا ہے، امریکی حکومت اپنے بانڈز خود خرید لے گی، شرح سود میں کمی کرکے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کرے گی۔ تاہم تجارتی پالیسی میں آئے روز کی تبدیلیوں کے باعث امریکی مالیاتی پالیسی سازوں کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ صارفین میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے اور مالی عدم استحکام کے خدشے پر اخراجات میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
صارفین کا اعتماد
امریکہ میں صارفین کا اعتماد گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہوا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوامی سطح پر اس تجارتی جنگ کے اثرات کا خوف بڑھ رہا ہے۔








