پی آئی اے کے 3 سنیئر افسران کو قید اور جرمانے کی سزائیں
پی آئی اے کے افسران کو سزا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) این آئی آر سی بلوچستان نے پی آئی اے کے 3 سنیئر افسران کو سزا سنا دی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے خطرے، سندھ حکومت نے اقدامات شروع کردیے
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کوئٹہ بینچ کے ممبر عبدالغنی مینگل نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کوئٹہ کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ سنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے پاکستان کو شکست دے کر انڈر 19 سیریز اپنے نام کر لی
سزا کی تفصیلات
پی آئی اے افسران کو یومیہ اجرت والے 17 ملازمین کو مستقل نہ کرنے کے عدالتی فیصلے کی حکم عدولی پر سزا سنائی گئی ہے۔ پی آئی اے کے ڈپٹی سی ای او، ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اور جی ایم پی آئی اے بلوچستان کو 6،6 ماہ قید 50،50 ہزار جرمانے کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5ہزار 500روپے کی کمی
عدالتی احکامات
عدالت نے تمام افسران کو سرکاری عہدوں کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے افسران کی تنخواہوں اور مراعات فی الفور روکنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، اور آئی جی اسلام آباد، آئی جی بلوچستان کو فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔ فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ آئی جی اسلام آباد اور آئی جی بلوچستان تینوں افسران کو جیل منتقل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سٹیٹ بینک نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل کرے گا،شرح سود میں مزید کمی متوقع
پی آئی اے کا موقف
ترجمان پی آئی اے نے کہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، تاہم فیصلے سے کئی اہم قانونی نکات سماعت میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں، موجودہ نجکاری عمل اور اس ضمن میں انتظامی پیچیدگیوں سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا پی آئی اے کے دفاع کے لیے ضروری تھا۔
نظرثانی کی درخواست
ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ قومی ایئرلائن نے فیصلے کے خلاف متعلقہ فورم پر نظر ثانی اپیل دائر کر دی ہے.








