9 مئی مقدمات کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کا کیس؛ وکیل لطیف کھوسہ نے 4 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم پر اعتراض اٹھا دیا
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا کیس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں 9مئی مقدمات کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں آئی فون 16 کی فروخت پر پابندی عائد
وکیل لطیف کھوسہ کا اعتراض
وکیل لطیف کھوسہ نے 4ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم پر اعتراض اٹھا دیا۔ انہوں نے سوال کیا، "کیا کبھی ایسا ہوا کہ 4ماہ میں ٹرائل مکمل ہو؟"
یہ بھی پڑھیں: پولیس نے سیلاب زدگان کی مدد چھوڑ کر این اے 129 میں تحریک انصاف کے انتخابی دفتر کی ناکہ بندی کردی، حماد اظہر
چیف جسٹس کا جواب
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جواب دیا کہ ایسا مت کہیں، کیونکہ قانون روزانہ انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمات کی سماعت کا کہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ انصاری نے سردیوں میں خشک جلد کو نرم و ملائم اور چمکدار رکھنے کا آسان نسخہ بتا دیا
لطیف کھوسہ کی تشویش
لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ عدالت کے 4ماہ کے حکم سے ٹرائل اپ سیٹ ہوگا۔ چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ٹرائل متعلقہ ہائیکورٹ اور انتظامی جج کا معاملہ ہے، اور سپریم کورٹ ٹرائل کی مانیٹرنگ نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ماں کا دوسری ماں کے لیے تحفہ: لیاری کا منفرد اسکول جہاں ماؤں کو بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے
مقدمات اور ملزمان کی تعداد
وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ 9مئی کے 500مقدمات اور 24ہزار ملزمان مفرور ہیں۔
چیف جسٹس کا فیصلہ
چیف جسٹس نے کہا کہ 4ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں ملزمان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔








