امریکہ میں تقریباً 1500 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ، درجنوں کو ملک بدری کا سامنا
امریکہ میں طلبہ ویزوں کی منسوخی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار عہدہ سنبھالنے کے بعد امیگریشن حکام نے تقریباً 1500 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں جن میں سے متعدد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ متاثرہ طلبہ کی بڑی تعداد ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے 2024 میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے خلاف امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں حصہ لیا تھا، یا پھر سوشل میڈیا پر غزہ کی حمایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ناسویا بھردواج نے اپنے لباس پر ہونے والی تنقید پر ردعمل کا اظہار کردیا
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف
الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان طلبہ نے کیمپسز پر "یہود دشمنی" اور "حماس نوازی" کو فروغ دیا، تاہم طلبہ، وکلا اور سماجی کارکنان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نائجیریا : گاؤں پر مسلح افراد کے حملے میں 100 افراد ہلاک
ویزوں کی منسوخی کی تعداد
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارچ کے آخر تک تقریباً 300 ویزے منسوخ کیے گئے تھے لیکن دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انسائیڈ ہائیر ایجوکیشن کی رپورٹ کے مطابق 17 اپریل تک 1489 طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں جن کا تعلق 240 سے زائد جامعات سے ہے، جن میں ہارورڈ، اسٹینفورڈ، اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف میری لینڈ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ تدارک کیس؛ لاہور ہائیکورٹ کی ہفتے میں 4روز سکولز تک کھلے رکھنے کی تجویز
قانونی حیثیت کا مسئلہ
کئی طلبہ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ان کے قانونی سٹیٹس سے محروم کر دیا گیا۔ بعض طلبہ کو صرف معمولی ٹریفک خلاف ورزیوں جیسے سپیڈنگ ٹکٹ پر نشانہ بنایا گیا جب کہ دیگر کو واضح وجہ بتائے بغیر ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صبا قمر کو پولیس کی وردی پہننا مہنگا پڑ گیا
قانونی مشورہ کی ضرورت
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں امیگریشن وکیل محمد علی سید کا کہنا ہے کہ طلبہ کو فوری طور پر قانونی مشورہ لینا چاہیے تاکہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ کئی طلبہ نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع کر دی ہے جبکہ کچھ نے ملک بدری سے بچنے کے لیے عدالتوں سے عارضی امتناع کے احکامات بھی حاصل کیے ہیں۔
نامساعد حالات کی وضاحت
الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے مختلف جامعات کے اساتذہ نے اس صورت حال کو طلبہ اور فیکلٹی کے لیے خوف اور غیر یقینی کی کیفیت قرار دیا ہے۔ کچھ طلبہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں تاکہ ماضی کی کوئی پوسٹ ان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ایک پروفیسر کے مطابق یہ اقدامات دراصل غیر ملکی طلبہ کو "لائن میں رہنے" کا پیغام دینے کی کوشش ہیں تاکہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیں اور امیگریشن کے راستے بند کیے جا سکیں۔








