پی ٹی آئی دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، جرگہ کا خواہ مخواہ واویلا کیا جا رہا ہے: طلال چودھری
طلال چودھری کی تنقید
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پختونخوا حکومت دہشتگردی پر قابو پانے کے بجائے جرگے سے متعلق واویلا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بحری جنگی جہاز سے مقامی طور پر تیار کیے گئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
ملکی سکیورٹی صورتحال
نجی ٹی وی جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے طلال چودھری نے بتایا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس میں پی ٹی آئی شریک نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے ہیں، لیکن کے پی حکومت اس بارے میں سنجیدہ اقدامات کرنے کی بجائے جنگ و جدل کے مسائل پر شرمندگی محسوس کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حیران تھا کہ صائمہ جیسی سنجیدہ اور باپردہ طبیعت کی خاتون سید نور کے ساتھ رشتہ کیسے جوڑ سکتی ہیں، مصنف ناصر ادیب
سیکورٹی تجاویز
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے سے متعلق تجاویز آچکی ہیں، اور وفاقی حکومت جب مناسب سمجھے گی تو صوبائی حکومت کو آن بورڈ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی وفاق کا کام ہے اور یہ صرف وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں تعلیمی ادارے کل سے کھولنے کا فیصلہ
پی ٹی آئی کی پالیسی
طلال چودھری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے صوبائی حکومت کو افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کی ہدایت کی تھی، مگر پی ٹی آئی اب بھی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم پر ووٹنگ:پی ٹی آئی کو 2سینیٹرز کی فلورکراسنگ کا خدشہ
محمد علی سیف کا ردعمل
دوسری جانب مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے بات چیت کا عمل شروع کرنے پر وفاق کا دیر کرنا باوجود صحیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو بات چیت کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی
خطے میں پائیدار امن
بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق، افغانستان سے بات چیت کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹی او آرز بات چیت کے عمل کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ان میں قبائلی عمائدین سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے صدر کو امریکہ نے گرفتار کر لیا، لیکن تیل کے کنوؤں کا کیا بنا؟
وفاقی حکومت کی خاموشی
مزید برآں، سیف نے افغانستان جرگہ بھیجنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا، مگر تین ماہ گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا اور افغانستان کے ساتھ فوری بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
جرگہ بھیجنے کا اعلان
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے قبائلی عمائدین، علما اور تاجروں کا جرگہ افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔








