پی ٹی آئی دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، جرگہ کا خواہ مخواہ واویلا کیا جا رہا ہے: طلال چودھری
طلال چودھری کی تنقید
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پختونخوا حکومت دہشتگردی پر قابو پانے کے بجائے جرگے سے متعلق واویلا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے: انگلینڈ 131 رنز پر ڈھیر، جنوبی افریقہ کی سات وکٹ سے فتح
ملکی سکیورٹی صورتحال
نجی ٹی وی جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے طلال چودھری نے بتایا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس میں پی ٹی آئی شریک نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے ہیں، لیکن کے پی حکومت اس بارے میں سنجیدہ اقدامات کرنے کی بجائے جنگ و جدل کے مسائل پر شرمندگی محسوس کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خدشات سے متعلق اہم بیان جاری کر دیا
سیکورٹی تجاویز
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے سے متعلق تجاویز آچکی ہیں، اور وفاقی حکومت جب مناسب سمجھے گی تو صوبائی حکومت کو آن بورڈ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی وفاق کا کام ہے اور یہ صرف وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پردیس میں اپنی پہچان سے جڑی محبت میں منعقدہ “سندھی کلچرل ڈے” تقریب نے دل جیت لیے
پی ٹی آئی کی پالیسی
طلال چودھری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے صوبائی حکومت کو افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کی ہدایت کی تھی، مگر پی ٹی آئی اب بھی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فون کی تلاش میں خاتون گہرے شگاف میں جا گریں، سات گھنٹے تک پھنسی رہیں۔
محمد علی سیف کا ردعمل
دوسری جانب مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے بات چیت کا عمل شروع کرنے پر وفاق کا دیر کرنا باوجود صحیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو بات چیت کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 8 فروری کو شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان ہے، ہمارا احتجاج پرامن اور مہذب ہوگا، 8 فروری کو عوام رول آف لاء اور اپنے حق کے لیے نکلیں گے، بیرسٹر گوہر
خطے میں پائیدار امن
بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق، افغانستان سے بات چیت کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹی او آرز بات چیت کے عمل کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ان میں قبائلی عمائدین سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ممبئی ایئرپورٹ پر بوئنگ 737طیارے کو کارگو ٹرک نے ٹکر مار دی
وفاقی حکومت کی خاموشی
مزید برآں، سیف نے افغانستان جرگہ بھیجنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا، مگر تین ماہ گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا اور افغانستان کے ساتھ فوری بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
جرگہ بھیجنے کا اعلان
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے قبائلی عمائدین، علما اور تاجروں کا جرگہ افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔








