ڈاکٹرز نے زخمی بیٹے کی تیمار داری کیلئےہسپتال گئے باپ کا آپریشن کردیا
دھماکہ خیز الزام: کوٹا میڈیکل کالج میں غلط طریقے سے آپریشن
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست راجستھان کے کوٹا میڈیکل کالج میں ایک شخص نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹروں نے اس کے مفلوج والد کا بغیر اجازت آپریشن کر دیا، جبکہ وہ خود ایک حادثے سے زخمی ہو کر ہسپتال آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پہاڑوں کو موسمیاتی تبدیلی کا سامنا، تحفظ کیلئے نوجوان کردار ادا کریں: وزیراعظم
حادثہ اور ہسپتال کی کہانی
متاثرہ شخص منیش نے تفصیلات دیتے ہوئے بیان کیا کہ وہ ایک حادثے کے نتیجے میں چوٹ لگا کر ہسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کی سرجری ہفتے کے دن طے تھی۔ منیش نے وضاحت کی کہ چونکہ اس کی مدد کے لیے کوئی اور موجود نہیں تھا، اس نے اپنے مفلوج والد کو ہسپتال بلایا تاکہ وہ اس کے ساتھ رہ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور پاکستان کو غزہ میں صیہونی مظالم روکنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، علی خامنہ ای کا شہباز شریف سے ملاقات میں اظہار خیال
آپریشن کے دوران حیرت انگیز واقعہ
منیش نے کہا کہ "میرا ایکسیڈنٹ ہوا، مجھے چوٹ آئی، اور چونکہ میرے ساتھ کوئی نہیں تھا، میں نے اپنے مفلوج والد کو ساتھ بلایا۔ میری سرجری ہفتے کو طے تھی، اس لیے میں نے ان سے کہا کہ وہ باہر بیٹھ جائیں۔ میں خود آپریشن میں تھا، مجھے نہیں پتا کیا ہوا، لیکن اب میرے والد کے جسم پر 5 سے 6 ٹانکے لگے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: قومی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کو معطل کر دیا گیا
ڈاکٹروں کی غفلت پر سوالات
منیش نے مزید بیان کیا کہ اسے یاد نہیں کہ اس کا آپریشن کس ڈاکٹر نے کیا اور بے بسی کے عالم میں کہا "مجھے ڈاکٹر کا نام بھی یاد نہیں جس نے آپریشن کیا، میں خود اس حال میں پڑا ہوں، میں کیا کر سکتا ہوں؟"
حکام کا رد عمل
اسی دوران، کوٹا میڈیکل کالج ہسپتال کی پرنسپل ڈاکٹر سنگیتا سکسینہ نے واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی ہے کہ معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ڈاکٹر سکسینہ نے کہا، "میں نے سپرنٹنڈنٹ سے کہا ہے کہ وہ کمیٹی بنائیں اور 2 سے 3 دن میں رپورٹ پیش کریں۔ تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو تحقیقات کرے گی اور حقیقت سے آگاہ کرے گی۔"








