ایران امریکا جوہری مذاکرات کا روم میں دوسرا دور، ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو تعمیری قرار دے دی
ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات
روم (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایران امریکا جوہری مذاکرات کا روم میں دوسرا دور ہوا، جس میں چار گھنٹے تک عمان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی اور میزائل دفاع میں 400 فیصد اضافے کی ضرورت ہے، نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کردیا
مذاکرات کا طریقہ کار
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ روم میں عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر امریکی اور ایرانی وفود الگ الگ کمروں میں بیٹھے اور عمان کے وزیرخارجہ نے پیغامات کا تبادلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خصوصی بچوں کی تعلیم میں تاریخی پیش رفت، برٹش کونسل اور سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں معاہدہ
ایران کی مذاکرات میں سنجیدگی
ترجمان کا کہنا تھاکہ ایران سنجیدگی سے مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے، اور غیرقانونی پابندیاں قابلِ اعتماد ضمانتوں کے ساتھ ہٹانی ہوں گی۔ ایران کے لئے جوہری تکنیکی کامیابیوں کا تحفظ لازم ہے، اس پر بات چیت ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟
بات چیت کا مرکزی موضوع
عمانی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے، پابندیوں کے خاتمے اور پ±رامن جوہری پروگرام کا حق دینے پر مرکوز رہی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شدید سردی، پارہ سنگل ڈیجٹ میں آگیا
اگلا دور کہاں ہوگا
دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا اگلا دور عمان میں ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گفتگو کو تعمیری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تکنیکی ملاقاتوں کے بعد امید ہے کہ اگلے ہفتے معاہدے کے امکان کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت زیادہ خوش امیدی اور بہت زیادہ مایوسی کے بجائے ہمیں درمیانی راستے پر رہنا ہوگا۔








