ایران امریکا جوہری مذاکرات کا روم میں دوسرا دور، ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو تعمیری قرار دے دی
ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات
روم (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایران امریکا جوہری مذاکرات کا روم میں دوسرا دور ہوا، جس میں چار گھنٹے تک عمان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کے خلاف آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را مل کر کام کرے، بلاول بھٹو کی تجویز
مذاکرات کا طریقہ کار
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ روم میں عمان کے سفیر کی رہائش گاہ پر امریکی اور ایرانی وفود الگ الگ کمروں میں بیٹھے اور عمان کے وزیرخارجہ نے پیغامات کا تبادلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواہش کے مطابق اندازفکر اور زندگی بسر کرنے کی عادت ممکن ہے لیکن آسان بھی نہیں، کوئی توقع نہیں کر سکتا کہ اس کا بدن راتوں رات نئی عادت اپنا لے گا
ایران کی مذاکرات میں سنجیدگی
ترجمان کا کہنا تھاکہ ایران سنجیدگی سے مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے، اور غیرقانونی پابندیاں قابلِ اعتماد ضمانتوں کے ساتھ ہٹانی ہوں گی۔ ایران کے لئے جوہری تکنیکی کامیابیوں کا تحفظ لازم ہے، اس پر بات چیت ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز کل سے ہوگا
بات چیت کا مرکزی موضوع
عمانی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے، پابندیوں کے خاتمے اور پ±رامن جوہری پروگرام کا حق دینے پر مرکوز رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور
اگلا دور کہاں ہوگا
دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا اگلا دور عمان میں ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گفتگو کو تعمیری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تکنیکی ملاقاتوں کے بعد امید ہے کہ اگلے ہفتے معاہدے کے امکان کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت زیادہ خوش امیدی اور بہت زیادہ مایوسی کے بجائے ہمیں درمیانی راستے پر رہنا ہوگا۔








