بابے کے بال لمبے، رنگ سانولا، چہرہ بے نور، آنکھیں سرخ، ہونٹ بڑے رہے تھے، لمحوں کی خاموشی کے بعد کڑک دار آواز سنائی دی “بندش ہے بچہ”
ملنے کا پروانہ
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 145
چیلوں نے ہمیں بابا جی سے ملنے کا پروانہ دیا اور اگلے ہی لمحہ ہم اُس کے اگر بتی اور چرس کی خوشبو سے مہکتے کمرے میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کو پسند آئے نہ آئے، گرین لینڈ ہم لے کر رہیں گے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کمرے کا منظر
نیم اندھیرے کمرے میں ہر چیز سبز رنگ میں رنگی تھی۔ بابا ایک بڑے گاؤ تکیہ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا، ہاتھ میں پانچ سو دانوں والی تسبیح تھی۔ ارد گرد چند اور گاؤ تکیئے بھی رکھے تھے۔ بابے کے بال لمبے، رنگ سانولا، چہرہ بے نور، قد لمبا، داڑھی سیاہ و سفید، آنکھیں چڑھی ہوئی اور سرخ تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
بابا جی سے بات چیت
سلام کے جواب میں آدھ کھلی آنکھوں سے بولا؛ "جوانو، کیسے آنا ہوا؟ بابا کیسا یاد آ گیا؟ محبوب روٹھا ہے یا قابو نہیں آ رہا، فیل ہو گئے ہو یا نوکری کا مسئلہ ہے۔" رونی صورت بنا کر میں بولا؛ "بابا جی! تین سال ہو گئے بی اے پاس نہیں ہوا۔ تیاری کرتا ہوں پر ہر بار فیل ہو جاتا ہوں۔ آپ کا بڑا نام سنا ہے بس چلے آئے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک نے ‘نکتہ’ میں اکثریتی حصص حاصل کرلی، معروف صحافی کامران خان اے آر وائی کے چیئر مین مقرر
بابا جی کی تشخیص
اس کی نیم کھلی آنکھیں مکمل بند ہو گئیں۔ اس کے ہاتھ کی انگلیاں ٹیرھی میڑھی چل رہی تھیں، ہونٹ بر بڑا رہے تھے۔ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کی کڑک دار آواز سنائی دی؛ "بندش ہے بچہ۔ بندش۔ او بدبخت، تجھے پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے۔ بھاگ جا۔ بندش ختم ہو جائے گی اور تو پاس ہو جائے گا بچہ۔" میں نے کہا؛ "جی بابا! بندش کس نے کی اور مجھے کرنا کیا ہوگا؟" کہنے لگا؛ "چھوڑ! بندش کس نے کی۔ ہے جو نہیں چاہتا تم کامیاب ہو۔ تجھے اس کا کام کا ہدیہ دینا ہو گا بچہ، ہدیہ۔"
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا ہر بچہ، ہر ماں، ہر خاندان ہماری ترجیح اور تحفظ ہمارا مشن ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
مالی مسئلہ
میں نے کہا بابا؛ "کتنا ہدیہ ہوگا؟" "بس 2 ہزار روپے بچہ۔" اس وقت یہ بڑی رقم تھی۔ میرے والد کی تنخواہ 3 ہزار روپے تھی۔ شعیب بولا؛ "بابا جی! اتنی رقم ہم نہیں دے سکتے۔ مہربانی کریں۔" جواب دیا؛ "ایک ہزار سے کم پر بندش ختم نہیں کی جا سکتی۔ ایک ہی تعویز سے کام۔۔۔"
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک دوران کام جان بحق ہونے والے پاکستانیوں کے ورثاء کو ایک کروڑ روپیہ نقد دینے کی قرار داد عشایئہ تقریب میں منظور
شعیب کا غصہ
شعیب کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ میں نے اشارہ اسے روکنا چاہا مگر اس نے بابے کو پنجابی میں با آواز بلند ماں بہن کی دو چار گالیاں دیں اور آگے بڑھ کے بولا؛ "فراڈیے! ہمیں تو بی اے پاس کیے کئی سال بیت چکے۔"
یہ بھی پڑھیں: پشاور موٹروے ٹول پلازا کا سٹاف کبین چھوڑ کر دفتر چلا گیا
گاہکوں کی موجودگی
اس کے چیلے بھی کمرے میں آ چکے تھے۔ ان کے لئے صورت حال اچھی نہ تھی۔ باہر دو چار گاہک بھی بیٹھے تھے۔ شعیب کی آواز کمرے میں گونجتی باہر بھی جا رہی ہو گی۔ میں ساری صورت حال سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ بات بگڑتی دیکھ کر با با اور اس کے چیلے منت سماجت پر آ گئے۔ بنگالی با با اور اس کے چیلے اب میرے جن کے قبضے میں تھے۔ انہوں نے 200 روپیہ ہمیں دے کر جان چھڑائی۔
یہ بھی پڑھیں: اردو ہماری قومی زبان ہے اس کا لکھنا پڑھنا بولنا نہایت ضروری ہے، مگر صوبائی و علاقائی زبانیں بھی زندہ رکھنا ہوں گی،خواجہ محمد آصف
گھر واپسی
ہمارے لئے یہ بڑے پیسے تھے۔ موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کرائی۔ مسلم ٹاؤن سے پیٹروں والا ٹھنڈا دودھ پیا۔ 100 روپے سے کچھ زیادہ رقم پھر بھی بچ گئی۔ ہماری حماقت سے ایک جعلی پیر کی اصلیت بھی جان گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی مغوی اسسٹنٹ کمشنر زیارت کو بیٹے سمیت شہید کرنے کی شدید مذمت
شعیب کا مستقبل
شعیب نے پہلے ڈاکٹر بننے کے لئے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ آدھا ڈاکٹر بن گیا تھا کہ نہ جانے کیا سوجھی، ڈاکٹری چھوڑی، گورنمنٹ کالج سے بی اے کیا اور بینک جوائن کیا۔ آخر میں بینک سے بڑے عہدے سے نوکری چھوڑ کر خاندانی زمینیں سنبھال لیں۔ وہ پانچ وقت کا نمازی اور شریف انسان ہے۔ اس کے ماشااللہ 2 بیٹے مومن اور غازی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ ہمارا مشن مکمل ہونے تک جاری رہے گی: اسرائیلی وزیر خارجہ
اسلام آباد کی ملاقات
اوپر ذکر ہوا کہ وکی، شعیب اور میں اسلام آباد مومن صدر سے ملاقات کے لئے گئے تو کچھ دن اسلام آباد رہے بھی تھے۔ میرے بھتیجے کاشف کا اسلام آباد میں کسی مہہ جبین کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا۔ وہ اکیلا تھا اور جن سے لڑائی وہ تین چار لڑکے اس جھگڑے سے پہلے دوست ہی تھے۔ یہ لڑکی اب وجہ تنازعہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپارکو نے صوبوں کو سیلاب سے پیشگی آگاہ کردیاتھا،اب آئندہ 6 ماہ میں تین نئے سیٹلائیٹ لانچ کرنے جا رہے ہیں : ڈاکٹر محمد فاروق
کاشف کا خوف
کاشف ان لڑکوں کے ڈر سے گھر تک ہی محدود ہو گیا تھا۔ میں اسلام آباد بھائی جان شہزاد کے گھر پہنچا۔ کاشف سے وکی اور شعیب کا تعارف کرایا۔ اس کا ہنس مکھ چہرہ بجھ گیا تھا اور صورت رونی بنا رکھی تھی۔ شعیب اور وکی کسی سے ملنے چلے گئے۔ میں نے اس سے اداسی اور گھر سے باہر نہ نکلنے کی وجہ پوچھی تو اس نے مجھے سب بتا دیا۔ سن کر میں ہنسا اور ڈانٹتے کہا؛ "بچو! لڑکی کے پیچھے لڑائی، کچھ شرم کرو۔ خیر کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








