کراچی: جناح ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کا معاملہ، احتجاج پر ینگ ڈاکٹرز تقسیم
واقعہ کا پس منظر
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) دو روز قبل جناح ہسپتال میں ڈاکٹر پر تیمارداروں کے تشدد کے واقعے پر احتجاج کے معاملے پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن 2 گروپس میں تقسیم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: اللہ دتہ میلسی کی آواز نے ٹک ٹاک پر دھوم مچا دی، دیہی موسیقی عالمی سطح پر گونجنے لگی
احتجاج کا آغاز
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، ڈاکٹر پر تیمارداروں کے تشدد کے واقعے پر احتجاج کے معاملے کی انکوائری رپورٹ کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ایک گروپ نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا جبکہ دوسرے گروپ نے بدستور اوپی ڈیز کا بائیکاٹ کرکے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے فون پر بات اور میڈیکل چیک اپ کی درخواستیں منظور
مارچ کی منصوبہ بندی
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس حوالے سے چیئرمین وائی ڈی اے ڈاکٹر فرخ کی قیادت میں آج مارچ کیا جائے گا، مارچ کا مقصد ڈاکٹرز کے تحفظ اور وقار کی بحالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوکیا کا مقبول ترین بٹنوں والا فون 4 جی ٹیکنالوجی کے ساتھ لانچ کردیا گیا
انکوائری رپورٹ کی تفصیلات
واقعے کے حوالے سے انکوائری رپورٹ ڈائریکٹر جناح ہسپتال کو بھیجی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں پر تشدد کے واقعے میں مریض کے تیماردار جناح ہسپتال کے بیچلرز آف نرسنگ کے طلبہ ملوث ہیں۔ جناح ہسپتال کے بیچلرز آف نرسنگ کے طلبہ کو ادارے سے نکالنے کا حکم دیا جائے۔ رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی کہ ڈاکٹروں کے خلاف درج مقدمہ "سی کلاس" کرنے کے لئے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے اور سکیورٹی میں غفلت پر ڈپٹی انچارج کو عہدے سے ہٹا کر خدمات ختم کی جائیں۔
تشویش کی اصل وجہ
واضح رہے کہ 2 روز قبل جناح ہسپتال میں ایک مریض کی ہلاکت کے بعد چند افراد کی جانب سے ڈاکٹر پر تشدد کیا گیا تھا جس کے خلاف ڈاکٹرز احتجاج کر رہے تھے۔








