تعلیمی اداروں میں داخلے سے قبل تھلیسیمیا سمیت جینیٹک امراض کے ٹیسٹ لازمی قرار
تھیلیسیمیا اور جینیٹک امراض کا لازمی ٹیسٹ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں داخلے سے قبل طلبہ کا تھیلیسیمیا سمیت جینیٹک امراض کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کو صوبائی سطح کا معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پوری قوم اور وطن عزیز پاکستان کے خلاف جنگ قرار دیا جائے
تھیلیسیمیا پریوینشن ایکٹ 2025ء
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی نے جینیٹک امراض کی روک تھام کیلئے تھیلیسیمیا پریوینشن ایکٹ 2025ء منظور کر لیا ہے۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت طلباء کا تھیلیسیمیا سمیت جینیٹک امراض کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹرز نے بھی بحریہ ٹاؤن میں پروجیکٹ لانچ کر دیا، 1 اور 2 بیڈ اپارٹمنٹس، اتنے سستے جو آپ کو پورے بحریہ میں نہیں ملیں گے.
قانونی نوعیت اور ایڈوائزری کونسل
متن میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق ایڈوائزری کونسل تشکیل دی جائے گی، بیماریوں کی بروقت تشخیص اور مینجمنٹ مستقبل میں اس کے طبی و معاشی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کیلئے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1.69 روپے سستی ہونے کا امکان
ٹیسٹ رپورٹس کا جمع کروانا
ایکٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ رپورٹس بورڈز کو داخلہ فارم کے ساتھ جمع کروانا ضروری ہوگا۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ تمام ٹیسٹ رپورٹس کا ڈیٹا بیس بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹانک میں سکیورٹی فورسز کا “فتنہ الخوارج” کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک
سزائیں اور حفاظتی تدابیر
متن کے مطابق ان خفیہ معلومات کو غیرمجاز اشخاص سے شیئر کرنے پر سزائیں ہوں گی۔ لیبارٹریز 10 دن کے اندر ٹیسٹ رپورٹس پی آئی ٹی بی کو بھیجیں گی، جبکہ جعلی رپورٹس تیار کرنے والے نجی لیبارٹریز کے ملازمین کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔
مفاد عامہ کے اقدامات
متن میں مزید کہا گیا ہے کہ نادرا کے ساتھ مریضوں کے خصوصی رجسٹریشن اور مالی امداد کا بندوبست بھی جلد متوقع ہے۔ حکومت غریب خاندانوں کیلئے مفت ٹیسٹنگ کا بندوبست کرے گی۔ بل حتمی منظوری کیلئے گورنر پنجاب کو پیش کیا جائے گا۔








