یورپی یونین کا ایپل اور میٹا پر 70 کروڑ یورو کا جرمانہ، ٹرمپ کی ناراضی کا خطرہ
یورپی یونین کی جانب سے ایپل اور میٹا پر جرمانہ
پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی یونین نے بدھ کے روز ایپل اور میٹا پر ڈیجیٹل مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 70 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد کیا، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شدید ناراض ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک دن کی چھٹی بڑھانے یا اسکول بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، لوگ گھر بیٹھنے کی بجائے اور زیادہ باہر جانا شروع ہوگئے ہیں، عطا تارڑ
تناو¿ کی نئی لہریں
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق، ان جرمانوں سے یورپی یونین اور ٹرمپ کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناو¿ پیدا ہونے کا خطرہ ہے، کیوں کہ دونوں فریق بلاک پر بھاری امریکی محصولات سے بچنے کے لئے ایک معاہدے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ نے برطانیہ سے 20 یوروفائٹر ٹائیفون طیارے خریدنے کا معاہدہ کرلیا
ایپل اور میٹا پر عائد جرمانے
یورپی کمیشن نے ایپل پر 50 کروڑ یورو (57 کروڑ ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا ہے، کیوں کہ کمپنی نے ڈویلپرز کو سستی ڈیلز تک رسائی کے لئے ایپ سٹور سے باہر کے صارفین کو چلانے سے روک دیا ہے۔ میٹا پر 20 کروڑ یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) میں جم، کیفے ٹیریا اور ڈے کئیر سینٹر کا افتتاح، 10 سالہ پلان تیار
ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ اور اس کے نتائج
یہ جرمانے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (ڈی ایم اے) کے تحت عائد کئے گئے ہیں، جو گزشتہ سال نافذ العمل ہوا تھا، جس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یورپی یونین میں مسابقت کے لئے کھلنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف 70ہزار حرام کے ووٹ لے کر قوم پر مسلط ہوئے، ان کو لانے والوں کا چالان کون کرے گا، حافظ نعیم الرحمان
امریکی حکومت کے خدشات
یورپی یونین نے گزشتہ 2 سال کے دوران بڑے جڑواں قوانین، ڈیجیٹل سروسز ایکٹ اور ڈی ایم اے کے ذریعہ اپنے ’قانونی ہتھیار‘ کو مضبوط کیا ہے، لیکن ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ یورپی یونین ان پر عمل درآمد سے گریز کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی کا حتمی فیصلہ کب ہوگا، نئی تاریخ سامنے آگئی
ٹرمپ کی تنقید اور مستقبل کے خطرات
ٹرمپ اکثر یورپی یونین کے ڈیجیٹل قوانین اور ٹیکسوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرمانے 'ایک مضبوط اور واضح پیغام دیتے ہیں'۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں صرف 11 فیصد گھرانوں کا کچرا بلدیاتی ادارے اٹھاتے ہیں،فافن رپورٹ
ایپل اور میٹا کی جانب سے ردعمل
ایپل نے ان فیصلوں کی مذمت کی اور کہا کہ وہ جرمانے کے خلاف اپیل کرے گا۔ جبکہ میٹا نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا کہ وہ کامیاب امریکی کاروباروں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں بم دھماکہ، ایک شخص ہلاک
کمپنیوں کی حالیہ ترقیات
ایپل کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اس نے ڈی ایم اے کی تعمیل کرتے ہوئے صارف کے انتخاب کی ذمہ داریوں پر اپنی تحقیقات بند کردیں۔ میٹا کے خلاف جرمانے کا تعلق اس کے ’پرائیویسی کے لئے ادائیگی‘ کے نظام سے ہے۔
خلاصہ
یہ جرمانے یورپی یونین کے نئے قوانین کی سختی کو ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صارفین کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔








