فضل الرحمٰن کا فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور، کراچی، کوئٹہ میں ملین مارچ کا اعلان
پریس کانفرنس کا خلاصہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے 27 اپریل کو لاہور میں ایک بڑا ملین مارچ ہوگا۔ اس کے علاوہ، 11 مئی کو پشاور اور 15 مئی کو کوئٹہ میں بھی ملین مارچ کی سرگرمیاں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی ضرورت ہے ، عمران خان
اسرائیل کی حیثیت
مولانا فضل الرحمٰن نے فرمایا کہ اسرائیل ایک ناجائز ملک ہے، اور اس کی حیثیت ایک قابض ملک کی ہے۔ انہوں نے فلسطین کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "کیا کوئی ملک بے گناہ عورتوں اور بچوں کو شہید کرتا ہے؟" اور "کیا کوئی ملک دفاعی طور پر بے گناہ شہریوں کو شہید کرتا ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مسجد کے چندے کا ڈبہ چوری ہوگیا
پنجاب کے عوام کی شمولیت
مولانا نے مزید کہا کہ 27 اپریل کو لاہور میں ہونے والے ملین مارچ میں پنجاب کے عوام فلسطینی بھائیوں کے حق میں آواز بلند کریں گے۔ وہ ایک قوت بن کر سامنے آئیں گے جو امت مسلمہ کی آواز ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بی بی سی کی 100 خواتین: ‘سیکس کی علامت’ کہلائی جانے والی اداکارہ جنہوں نے اپنی شہرت کو ایڈز کے خلاف استعمال کیا
معاشرتی مسائل کی نشاندہی
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی زیرو ہے، اور وہ عوام کو کوئی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مولانا نے بلوچستان، خیبرپختونخوا، اور سندھ میں بدامنی کی صورتحال کو ناقابل بیان قرار دیا، اور کہا کہ قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ سنوار کی موت والا صوفہ میری ماں کا دیا ہوا ہے: وہ گھر جہاں اسرائیل نے حماس کے سربراہ کو ہلاک کیا
الیکشن کے حوالے سے موقف
مولانا فضل الرحمٰن نے دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں کو عوامی مسائل کے حل میں ناکام قرار دیا۔ انہوں نے 2018 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے 2024 کے انتخابات کے لیے بھی یہی موقف اپنایا۔
یہ بھی پڑھیں: آنٹی کی بہن سے محبت میں مبتلا شخص نے دھمکی دینے پر انکل کو موت کے گھاٹ اتار دیا،ملزم گرفتار
صوبائی حقوق کے تحفظ کی ضرورت
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر صوبوں کا حق چھینا گیا تو وہ صوبوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ مذہبی جماعتوں یا پارلیمانی اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشترکہ امور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر مصدق ملک سے سائی ٹیک ڈپلُو ہب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسس روئگ کی ملاقات
مائنز اینڈ منرلز بل
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بل خیبرپختونخوا میں پیش کیا جانا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ پیش کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اس بل کو مسترد کرنے کا اعلان کیا اور کانٹے دار مسائل پر گفتگو کی۔
انتخابی عمل میں شفافیت
ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ انتخابات آزاد اور شفاف ہونے چاہئیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بارے میں شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل اصولی طور پر ہمارے ہیں اور ہم نے انہیں اجاگر کیا ہے۔








