حکومت نے دہری شہریت والوں کو بڑی خوشخبری سنا دی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی منظوری
اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ ترمیمی بل 2024 کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا مقصد ان پاکستانیوں کو دوبارہ شہریت دینا ہے جنہیں غیر ممالک میں شہریت حاصل کرنے کی صورت میں پاکستان کی شہریت چھوڑنی پڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: قانون کی خلاف ورزی ٹریفک پولیس وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
ماضی کے مسائل
قائمہ کمیٹی میں بل پر بحث کے دوران وزارت قانون کے نمائندے نے بتایا کہ ماضی میں کچھ ممالک میں پاکستانیوں کو مقامی شہریت تو دی جاتی تھی مگر اس کے بدلے انہیں پاکستان کی شہریت ترک کرنا پڑتی تھی۔ اب حکومت ایسے افراد کی پاکستانی شہریت بحال کرنے کے لیے ترمیم لا رہی ہے تاکہ وہ اپنی اصل شہریت سے محروم نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو زائد عمر، بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کے باعث کم سزا دی گئی، توشہ خانہ ٹو کا تحریری فیصلہ۔
دوہری شہریت کے معاہدے
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس مصطفیٰ جمال قاضی نے بتایا کہ پہلے پاکستان کے 22 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے معاہدے نہیں تھے، تاہم اب ان ممالک کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں، جس کے بعد پاکستانی شہریوں کو اب دہری شہریت حاصل کرتے وقت اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنی پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن ٹریبونل نے این اے 263پر انتخابی عذرداری کا فیصلہ سنا دیا
چیئرمین کمیٹی کا موقف
چیئرمین کمیٹی نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی اعتراض نہیں، اور ایسے تمام پاکستانیوں کو اپنی شہریت واپس ملنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: غم پرانے ہیں اور سال نئے۔۔۔
اسلحہ لائسنس کا معاملہ
اجلاس میں اسلحہ لائسنس کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: عاطف اسلم کے والد انتقال کرگئے
وزیر مملکت برائے داخلہ کی بریفنگ
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام صوبے اسلحہ لائسنس جاری کر رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ماضی میں بہت زیادہ لائسنس جاری کیے گئے تھے جن میں بعض غیر موزوں معاملات بھی سامنے آئے۔
نئے قواعد و ضوابط
طلال چوہدری نے اس موقع پر بتایا کہ اب اراکین قومی اسمبلی کو ایک اسلحہ لائسنس وزیر اعظم کی منظوری سے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ممنوعہ بور کے لائسنس کھول دیے گئے ہیں مگر وہ محدود تعداد میں جاری کیے جائیں گے۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے تجویز کردہ افراد کو ممنوعہ بور کے لائسنس محدود پیمانے پر ہی دیے جائیں گے تاکہ اس نظام میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔








