سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے اعلان کے خلاف سیاسی رہنما اور قانونی ماہرین یک زبان
پاکستان کے قانونی ماہرین کی رائے
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پہلگام فالس فلیگ حملے کی آڑ میں بھارت کی آبی جارحیت کو سیاسی رہنماوں اور قانونی ماہرین نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اسلام آباد (OPF) کے تعاون سے ابوظہبی میں پاکستانی مینگو فیسٹیول 2025 کا انعقاد
شیری رحمان کا بیان
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے کہا کہ عالمی معاہدے اس طرح یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں ہوتے، سندھ طاس معاہدہ جنگیں ہونے کے باوجود فعال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں کتوں کے جھنڈ کا شہریوں پر حملہ، 35 افراد زخمی
مشاہد حسین سید کی تشویش
سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت اگر پاکستان کا پانی روکتا ہے تو یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگ کے مترادف ہوگا، بھارت پاکستان کا یا چین بھارت کا پانی بند کرے تو حالات مزید خراب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے تمام ممالک پر فوری طور پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا
احمر بلال صوفی کی وضاحت
بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں کہ وہ سندھ طاس کے عالمی معاہدے کو یکطرفہ ختم کردے، اگر بھارت ایسے معاہدے معطل کرسکتا ہے تو پھر کوئی اور پڑوسی ملک بھی ایسا کرسکتا ہے۔
عبدالباسط کی رائے
سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کرسکتا، بھارت اپنے ملک میں مسلمانوں کے وقف قانون کے خلاف احتجاج ختم کرنے کے لئے کوئی کارروائی کرسکتا ہے۔








