نہروں کا معاملہ: سندھ بھر کی عدالتوں میں ہڑتال
سندھ بار کونسل کی ہڑتال
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ بار کونسل کی جانب سے متنازع نہروں کے خلاف صوبے بھر کی عدالتوں میں ہڑتال جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس وصولیوں کے دباؤ اور مالی ہدف کے حصول کی دوڑ، ہفتہ کی چھٹی ختم کر دی گئی
وکلا کی کارروائیاں
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وکلا نے سندھ ہائیکورٹ کی مرکزی عمارت کے دروازے بند کر دیے اور سائلین سمیت سرکاری عملے کو عدالتوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اسی طرح، سٹی کورٹ کے مرکزی دروازے بھی بند کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: بھارت کے ہاتھوں دوبارہ شکست پر مریم نفیس نے محسن نقوی سے کیا درخواست کی؟ ٹوئٹ وائرل
ببرلو بائی پاس سکھر میں دھرنا
دوسری جانب، ببرلو بائی پاس سکھر میں وکلا کا دھرنا ساتویں روز میں داخل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک میں کاروبار کا مثبت رجحان، 100 انڈیکس میں 550 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
سیاسی جماعتوں کا احتجاج
واضح رہے کہ پنجاب میں نہروں کے تنازع پر سندھ میں پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر جماعتیں گزشتہ کئی روز سے سراپا احتجاج ہیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نہریں بننے سے سندھ کا پانی کم ہو جائے گا۔ وفاق اور پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ نہروں کے معاملے کو متنازع بنایا جا رہا ہے، ارسا ایکٹ موجود ہے اور اس کی موجودگی میں کوئی بھی صوبہ کسی دوسرے صوبے کا پانی نہیں لے سکتا۔
بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا انتباہ
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ وفاقی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر متنازع نہروں کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو وفاقی حکومت سے علیٰحدہ ہونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا۔








