جاپان نے آسمانی بجلی قابو کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیکنالوجی تیار کر لی
جاپان میں آسمانی بجلی سے نقصانات
ٹوکیو (ڈیلی پاکستان آن لائن) جاپان میں ہر سال آسمانی بجلی گرنے سے سوا ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات ہوتے ہیں۔ ان حادثات سے نمٹنے کے لیے جاپانی سائنس دانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے بجلی کے کوندنے کی سمت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نیوز 18 کے مطابق یہ دنیا کی پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بجلی کے کوندنے کو کنٹرول کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات
نئی ٹیکنالوجی کا مقصد
یہ منصوبہ نپون ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون کارپوریشن نے تیار کیا ہے، جس کا مقصد آسمانی بجلی سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کم کرنا اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا تجربہ گزشتہ سال دسمبر سے دو ماہ تک ہامادا سٹی، شی مانے پریفیکچر میں کیا گیا۔ تجربے کے دوران ایک خصوصی ڈرون کو 300 میٹر کی بلندی پر طوفانی بادلوں کے درمیان اُڑایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پسماندہ طبقات کی بحالی پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے: سہیل شوکت بٹ کا خصوصی افراد میں 1100 وہیل چیئرز کی فراہمی کی تقریب سے خطاب
ڈرون کی خصوصیات
ڈرون میں نصب نظام نے بجلی کے ممکنہ اخراج کا مقام شناخت کیا جس کے بعد زمین سے ایک سوئچ کے ذریعے اس کی سمت محفوظ مقام کی طرف موڑ دی گئی۔ اس ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والا ڈرون ایک خاص دھات سے بنی مضبوط جالی میں بند ہوتا ہے، جو بجلی کے اثر کو مخصوص حصوں تک محدود رکھتا ہے۔
روایتی طریقے اور نئے حل
روایتی طور پر عمارتوں پر اینٹینا نصب کر کے بجلی کو اپنی طرف مائل کیا جاتا ہے لیکن یہ طریقہ ہر جگہ قابلِ عمل نہیں ہوتا۔ نئی ٹیکنالوجی زیادہ لچکدار اور محفوظ متبادل فراہم کرتی ہے جو مستقبل میں شہروں، فیکٹریوں اور اہم تنصیبات کو بجلی گرنے سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔








