35 سال سے بھارت میں مقیم پاکستانی خاتون کو ملک بدری کا حکم
اوڈیشہ پولیس کا حکم
نئی دہلی (ویب ڈیسک) اوڈیشہ پولیس نے گزشتہ 35 سال سے بھارت میں مقیم پاکستانی خاتون شردا بائی کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ شردا بائی کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بلا تاخیر پاکستان واپس چلی جائیں۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے حکم کی تعمیل نہ کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر لیب اٹینڈنٹ نے مریض کی ای سی جی کر ڈالی
دہشت گرد حملے کے بعد کے اقدامات
یہ اقدام کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے خلاف اٹھائے گئے غیر عسکری اقدامات کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی ترین کا ملتان سلطانز اور ٹیم کے چاہنے والوں کے نام الوداعی پیغام
شردا بائی کی ذاتی تاریخ
شردا بائی نے کئی برس قبل اڑیسہ کے ضلع بولانگیر میں ہندو خاندان سے تعلق رکھنے والے مہیش کُکریجا سے شادی کی تھی۔ ان کے بیٹے اور بیٹی بھارتی شہری ہیں۔
تمام اہم دستاویزات، بشمول ووٹر آئی ڈی رکھنے کے باوجود، شردا بائی کو کبھی بھارتی شہریت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت اور وزیر اعظم کا شہدائے کشمیر کو خراج تحسین، حمایت جاری رکھنے کا عزم
حکومتی اپیل
انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں اپنے خاندان سے جدا نہ کیا جائے اور بھارت میں رہنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، مودی سرکار نے میڈیا پر بڑی پابندی لگادی
شردا بائی کا جذبہ
شردا بائی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، ’میں پہلے کوراپٹ میں تھی پھر بولانگیر آئی۔ میرا پاکستان میں کوئی نہیں ہے۔ میرا پاسپورٹ بھی بہت پرانا ہے۔ میں حکومت اور آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہوں کہ مجھے یہیں رہنے دیا جائے۔ میرے دو بالغ بچے اور پوتے پوتیاں ہیں… میں بھارت میں بھارتی بن کر جینا چاہتی ہوں۔‘
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے لئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا ایکس پر خصوصی پیغام
پولیس کا مؤقف اور حالات
ان کی اپیل نے دلوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے، تاہم بولانگیر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔
نئی حکومتی پالیسیوں کا اعلان
واضح رہے کہ بھارت نے کشمیر کے پہلگام میں اتوار کے روز ہوئے ہولناک دہشت گرد حملے، جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے، کے بعد بدھ کو کئی غیر عسکری اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ ان اقدامات میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش اور بھارت میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کے ویزے کی منسوخی شامل ہے۔








