وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے بھارت سے متعلق کیا کہا؟ تفصیل سامنے آ گئی
اسحاق ڈار کی برطانوی ہم منصب سے گفتگو
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈیوڈ لیمی کو بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے جیسے غیرقانونی فیصلوں سمیت یک طرفہ اقدامات سے آگاہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ، پاکستان کے بائیکاٹ کے باوجود بھارتی ٹیم سری لنکا جائے گی، سوریا کمار یادیو کی تصدیق
نظر ثانی اور واضح موقف
ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور انہیں علاقائی صورت حال سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس؛ عدم پیشی پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، ضامن کے ایک لاکھ روپے کے مچلکے ضبط، پولیس افسران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
بھارت کے اقدامات کی تنقید
اسحاق ڈار نے بھارت کے جھوٹے الزامات، بے بنیاد پروپیگنڈے اور یک طرفہ اقدامات جن میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا غیر قانونی فیصلہ بھی شامل ہے، بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ
پاکستان کے قومی مفادات کا دفاع
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے قومی مفادات کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کو بھی دہرایا۔
یہ بھی پڑھیں: شراکت داری کی ضرورت تھی لیکن قائم نہیں کرسکے، آسٹریلوی کپتان
امن کی ضرورت
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے بات چیت اور پرامن ذرائع سے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیا، اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی آزاد اور شفاف تحقیقات میں شرکت کے لیے تیار ہے。
رابطہ قائم رکھنے کا عزم
پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے بدلتی ہوئی صورت حال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔








