بچوں کا قصور نہیں
بچوں کے دل کے علاج کے لئے بھارت جانے والی فیملی کی واپسی
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )2 بچوں کے دل کے علاج کے لئے بھارت جانے والی فیملی مودی حکومت کی جانب سے ملک چھوڑنے کے احکامات کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا میں 33 ارب روپے کے مفت سولرائزیشن منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاں
بچوں کے والد کا بیان
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بچوں کے والد شاہد علی نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بھارت سے علاج کروائے بغیر واپس آئے ہیں اور جو حالات پیدا ہوئے اس میں بچوں کا کوئی قصورنہیں تھا لہذا حکومت سے اپیل ہے کسی اور ملک میں بچوں کا علاج کروایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2026 کا پہلا سپر مون کل نظر آئے گا
بھارتی ڈاکٹروں کی تشویش
انہوں نے کہا کہ بھارتی ڈاکٹر کہہ چکے ہیں کہ بچوں کے علاج میں پہلے ہی دیرہوگئی ہے، حکومت سے اپیل ہے کہ بچوں کے علاج کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ
مقبوضہ کشمیر میں افسوسناک واقعہ
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد بھارت نے بنا کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد خودکش حملہ، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
پاکستان کا مؤقف
تاہم پاکستان کی جانب سے پہلگام واقعے کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر بھارت معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانا چاہتا ہے تو پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے۔
بھارت کی دھمکیاں اور پاکستان کا جواب
بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائی کی گیدڑ بھبکیاں بھی دی جارہی ہیں تاہم پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت یہ واضح کرچکی ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا بھارت کو ایسا جواب دیا جائے گا جو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔








