بی آئی ایس پی کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات پنشرز اور انکے اہل خانہ کوبھی ادائیگیوں کا انکشاف
اسلام آباد میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا انکشاف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو بھی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے.
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارش عاصم منیر بہت ہی متاثر کن اور بہترین شخصیت ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تعریف کر دی
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس دوران بی آئی ایس پی کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے.
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس معطل
غیر قانونی ادائیگیاں
آڈٹ حکام کے مطابق، سرکاری ملازمین کی بیگمات کو 8 کروڑ 98 لاکھ کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی۔ 2352 سرکاری ملازمین اور 704 پنشنرز کی بیگمات کو ادائیگیاں کی گئیں. آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ بی آئی ایس پی پالیسی کے تحت 30 ہزار سے زیادہ پنشن لینے والے افراد اہل نہیں تھے.
یہ بھی پڑھیں: 9 ماہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے 143 ارب روپے کا نقصان کیا
ادائیگیوں کی تفصیلات
گریڈ 1 سے گریڈ 20 تک کے ملازمین کے اہل خانہ کو ادائیگیاں کی گئیں، جس میں گریڈ 15 کے 263، گریڈ 16 کے 42، گریڈ 17 کے 21، گریڈ 18 کے 15، گریڈ 19 کے 11 اور گریڈ 20 کے 3 ملازمین اور پنشنرز بھی رقم لینے والوں میں شامل ہیں.
یہ بھی پڑھیں: جب فرعونوں نے تھبیس کو اپنا صدر مقام بنایا تو سیلابوں نے ان کا بہت نقصان کیا، محلات، مقبرے اور مندر وغیرہ گہرے پانی میں ڈوب جاتے تھے
سکریٹری کا بیان
اس پر سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے کہا کہ اگر کمیٹی چاہے تو ہم ان کے نام سامنے لے آئیں گے، ہمارے پاس ریکوری کے لیے کوئی میکنزم نہیں ہے. ان کی سزا یہ ہے کہ ان کے نام سامنے لائے جائیں.
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے ٹی چوک فلائی اوور اور شاہین چوک انڈر پاس منصوبوں کا دورہ، تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا
کمیٹی کے اراکین کے تبصرے
کمیٹی کی رکن شازیہ مری کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم پروگرام میں مختلف فلٹرز لگائے گئے ہیں، اس پروگرام میں معیار سرکاری ملازمین کا نہیں، انکم کا ہے. ثناءاللہ مستی خیل نے کہا کہ رقم لینے والے گریڈ 19 اور 20 کے ملازمین کو گولڈ میڈل دیا جائے.
ایکشن کی ہدایت
بعد ازاں، پی اے سی نے رقم لینے والے گریڈ 19 اور 20 کے افراد کی شناخت کرنے کی ہدایت کردی. چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان افراد سے رقم ریکوری کے لیے کیا طریقہ کار اپنائیں گے، یہ بھی دیکھا جائے کہ ان افراد کے خلاف کیا کارروائی بنتی ہے.








