بی آئی ایس پی کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات پنشرز اور انکے اہل خانہ کوبھی ادائیگیوں کا انکشاف
اسلام آباد میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا انکشاف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو بھی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے.
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کی 26 سال پرانی پیشگوئی جو بالکل درست ثابت ہوئی
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس دوران بی آئی ایس پی کے تحت سرکاری ملازمین کی بیگمات، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو ادائیگیوں کا انکشاف ہوا ہے.
یہ بھی پڑھیں: مسافت برسوں پر پھیل گئی، گاؤں جاتا ہوں تو کسی نہ کسی اسٹیشن کے کھنڈر کے سامنے ٹھہر کراس ڈھائی جانیوالی عمارت میں شاندار ماضی تلاش کرتا پھرتا ہوں
غیر قانونی ادائیگیاں
آڈٹ حکام کے مطابق، سرکاری ملازمین کی بیگمات کو 8 کروڑ 98 لاکھ کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی۔ 2352 سرکاری ملازمین اور 704 پنشنرز کی بیگمات کو ادائیگیاں کی گئیں. آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ بی آئی ایس پی پالیسی کے تحت 30 ہزار سے زیادہ پنشن لینے والے افراد اہل نہیں تھے.
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بار بار عمران خان سے ملاقات سے روکنا نقصان دہ اور خیبرپختونخوا کی عوام کی جانب سے ری ایکشن آرہا ہے،رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک
ادائیگیوں کی تفصیلات
گریڈ 1 سے گریڈ 20 تک کے ملازمین کے اہل خانہ کو ادائیگیاں کی گئیں، جس میں گریڈ 15 کے 263، گریڈ 16 کے 42، گریڈ 17 کے 21، گریڈ 18 کے 15، گریڈ 19 کے 11 اور گریڈ 20 کے 3 ملازمین اور پنشنرز بھی رقم لینے والوں میں شامل ہیں.
یہ بھی پڑھیں: جڑواں شہروں کے نان بائیوں اور تندور مالکان کا روٹی سرکاری قیمت پر فروخت کرنے سے انکار
سکریٹری کا بیان
اس پر سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے کہا کہ اگر کمیٹی چاہے تو ہم ان کے نام سامنے لے آئیں گے، ہمارے پاس ریکوری کے لیے کوئی میکنزم نہیں ہے. ان کی سزا یہ ہے کہ ان کے نام سامنے لائے جائیں.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ویمن ٹیم کی سابق کپتان عروج نے ڈاکٹر بن کر غیر ملکی کرکٹر کا علاج کر دیا
کمیٹی کے اراکین کے تبصرے
کمیٹی کی رکن شازیہ مری کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم پروگرام میں مختلف فلٹرز لگائے گئے ہیں، اس پروگرام میں معیار سرکاری ملازمین کا نہیں، انکم کا ہے. ثناءاللہ مستی خیل نے کہا کہ رقم لینے والے گریڈ 19 اور 20 کے ملازمین کو گولڈ میڈل دیا جائے.
ایکشن کی ہدایت
بعد ازاں، پی اے سی نے رقم لینے والے گریڈ 19 اور 20 کے افراد کی شناخت کرنے کی ہدایت کردی. چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان افراد سے رقم ریکوری کے لیے کیا طریقہ کار اپنائیں گے، یہ بھی دیکھا جائے کہ ان افراد کے خلاف کیا کارروائی بنتی ہے.








