ذرا سی غفلت ریلوے کے سارے حفاظتی نظام کو تہہ و بالا کر دیتی ہے، سیکڑوں معصوم زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں، جواب دہ کانٹے والا بھی ہوتا ہے۔

مصنف کا تعارف

مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 113

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5بجے طلب، 10نکاتی ایجنڈاجاری

کیبن کی ساخت

اس کیبن کے چاروں طرف کھڑکیاں ہوتی ہیں جن میں سے دور دور تک ہر طرف خصوصاً ریل کی پٹریوں کا احوال نظر آتا ہے۔ یہاں عموماً ایک ملازم ہوتا ہے جس کو بہت سارے ناموں سے پکارا جاتا ہے، کیبن مین، پوائنٹ مین، سگنل مین اور سیدھی سیدھی زبان میں اس کانٹے والا بھی کہہ دیتے ہیں۔ بڑے اسٹیشن پر ایک سے زیادہ ملازم مل جل کر یہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے شر پسند عناصر کی سرکوبی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کا حکم دیدیا

کیبن مین کی ذمہ داریاں

اس کیبن مین کا رابطہ ایک ٹیلیفون کے ذریعے براہ راست اسٹیشن ماسٹر اور کنٹرول روم سے رہتا ہے۔ عام لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ یہ اس سے کم رتبے کے لوگوں سے تو بات ہی کرنا گوارا نہیں کرتا، سیدھا ہی اس کا ناطہ حاکم اعلیٰ سے جڑا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی میڈیا پر پاکستان کا بیانیہ جیت گیا، بھارت سفارتی سطح پر بھی ناکام رہا، ہم نے یہ جنگ بھی جیتی: بلاول بھٹو زرداری

ذمہ داری اور خطرات

یہ حقیقتاً بہت ہی ذمہ دار ملازمت ہوتی ہے جس پر پورے ریلوے کے متحرک ہونے کا انحصار ہوتا ہے۔ اس کی ذرا سی غفلت اور غلطی ریلوے کے سارے حفاظتی نظام کو تہہ و بالا کر دیتی ہے جس سے سیکڑوں معصوم زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان مسلم لیگ ن عجمان نے پاکستان کا 78واں جشن آزادی منایا

اسٹیشن ماسٹر اور کیبن مین کے تعلقات

اخلاقی اور انتظامی طور پر گاڑی کے سنبھالنے کی جتنی ذمہ داری اسٹیشن ماسٹر کی ہوتی ہے، ٹھیک اتنا ہی تکنیکی طور پر جواب دہ اسٹیشن سے کچھ دور کیبن میں بیٹھا ہوا اور قدرے کم رتبے والا یہ تنہا سا شخص بھی ہوتا ہے۔ اسٹیشن ماسٹر اپنی طبیعت، صوابدید، زمینی حقائق اور تجربے کی بنیاد پر وہاں آتی جاتی گاڑیوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے کچھ فیصلے کرتا ہے اور پھر ٹیلیفون کے ذریعے کیبن مین کو ضروری ہدایات دیتا ہے کہ کون سی گاڑی آرہی ہے اور اسے کس پلیٹ فارم یا لوپ لائن پر لینا ہے یا بغیر رکے براہ راست اسٹیشن سے گزارنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان

پٹریوں کا نظام

کیبن مین ان ہدایات کی روشنی میں سامنے لگے ہوئے برقی نقشے کو دیکھ اور سمجھ کر گاڑیوں کو مختلف لوپ لائنوں، شنٹنگ یارڈ یا پلیٹ فارم پر بھیجنے کے لیے پٹریاں اور پوائنٹ بدلتا ہے اور پھراس کے مطابق اس لائن کے لیے متعلقہ سگنل کو اَپ یا ڈاؤن کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک بڑے سیاسی گھرانے کی کسی شخصیت کے کرپٹو میں 100 ملین ڈالر ڈوبنے کی افواہ پر مرزا شہزاد اکبر کا ردعمل بھی آگیا

کیبن کی مشینری

اس کام کے لیے کیبن میں کئی بڑے بڑے لیور ایک ترتیب سے لگے ہوئے ہوتے ہیں جن پر مختلف نمبر لگے ہوئے ہوتے ہیں، یہ نمبر وہاں بچھی ہوئی پٹریوں کے ہوتے ہیں جنھیں میکانکی طریقے سے اس نظام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اسٹیشن ماسٹر کے حکم کے مطابق یہ اس عمل کا آغاز کرتا ہے اور ایک ترتیب سے سارے فیصلوں کو عملی جامہ پہناتا ہے۔

آخری لمحات کی احتیاط

یہ اتنا ذمہ داری کا کام ہوتا ہے کہ ذرا سی بے احتیاطی یا بھول چوک گاڑی کو بہت بڑے حادثے سے دوچار کر سکتی ہے۔ جب تک لیور مکمل طور پر مقفل نہیں ہو جاتا، کانٹے والا اس کو کھینچتا رہتا ہے۔ گرمیوں میںہاتھوں پر شدید پسینہ آجاتا ہے، جس سے لیور کھنچتے وقت وہ ہاتھ سے پھسل پھسل جاتے ہیں، اس لیے انھوں نے وہاں ایک تولیہ بھی لٹکا رکھا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے ہاتھ خشک کر لے۔ کتنی دور کی سوچ تھی ان انگریزوں کی۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...