ملک میں مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی: ادارہ شماریات
پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں کمی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں سالانہ مہنگائی کی شرح اپریل میں مسلسل چھٹے مہینے کم ہو کر 0.28 فیصد پر آگئی، جو مارچ میں 0.7 فیصد تھی، یہ گزشتہ چھ دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان کرپشن اسکینڈل، مرکزی ملزم قیصر اقبال کے ڈرائیور نے پلی بارگین کے تحت ساڑھے 4 ارب روپے ادا کردیے۔
کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں کمی
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق اپریل میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں کمی گزشتہ سال کے اسی مہینے میں ریکارڈ کی گئی 17.34 فیصد سے نمایاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف ڈبل سنچری، شبمن گل نے کئی ریکارڈ توڑ دیے
بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اثر
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے حالیہ بجلی کے نرخ میں 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی سے آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں مزید کمی آسکتی ہے، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی منفی میں بھی جا سکتی ہے جو گھریلو بجٹ کے لیے حقیقی ریلیف کا باعث بنے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 10 سالوں میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں صرف ایک فیصد کمی ہوئی: یونیسکو
خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں کمی
جیونیوز کے مطابق خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں کمی مارچ کے مقابلے میں اپریل میں کچھ کم ہو کر -4.82 فیصد رہی (مارچ میں -5.1 فیصد)، جس کی بنیادی وجہ خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 26.7 فیصد کمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے درمیان میچ کا ٹاس ہوگیا
دیگر اہم شعبوں میں قیمتوں کا دباؤ
دیگر اہم شعبوں میں بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا، ٹرانسپورٹیشن میں 3.91 فیصد کمی آئی جو مارچ میں 1.2 فیصد تھی جبکہ ہاؤسنگ و یوٹیلٹیز میں 2.62 فیصد کمی دیکھی گئی جو مارچ میں 2.2 فیصد تھی۔
کچھ زمروں میں قیمتوں کا دباؤ کم ہوا، ملبوسات و جوتوں کی مہنگائی 13.5 فیصد سے کم ہو کر 9.1 فیصد پر آگئی، تعلیمی اخراجات میں بھی کچھ کمی ہوئی تاہم، گھریلو آلات کی دیکھ بھال کی لاگت 3.7 فیصد سے بڑھ کر 4.02 فیصد ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنیر میں ایک اور کلاؤڈ برسٹ، انتظامیہ الرٹ
صحت کے شعبے میں قیمتوں میں اضافہ
صحت کی خدمات 13.8 فیصد سے بڑھ کر 14.15 فیصد ہوئیں اور تفریح و ثقافت میں اضافہ 7.7 فیصد سے بڑھ کر 8.8 فیصد تک پہنچا۔
الکوحلک مشروبات اور تمباکو کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو 7.5 فیصد سے بڑھ کر 7.94 فیصد ہو گیا تاہم، تعلیمی اخراجات میں کچھ کمی آئی جو 11.9 فیصد سے کم ہو کر 10.9 فیصد ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کا اجلاس 26 جنوری کو بلانے کا فیصلہ
مالی سال 2024-25 میں مہنگائی کی اوسط شرح
حکومت کے مطابق مالی سال 2024-25 کے پہلے 10 مہینوں (جولائی تا اپریل) میں اوسط مہنگائی کی شرح 4.73 فیصد رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں 25.97 فیصد تھی۔
اپریل میں شہری علاقوں میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 0.5 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں صرف 0.10 فیصد رہی جبکہ گزشتہ سال اپریل میں یہ شرح بالترتیب 19.4 فیصد اور 14.5 فیصد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: صنعتی اور مائنز ورکرز کے بچوں کے لئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کا اعلان
تھوک قیمتوں کے اشاریے میں تبدیلی
اپریل 2025 میں تھوک قیمتوں کے اشاریہ (WPI) میں -2.2 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مارچ میں یہ کمی 1.6 فیصد تھی۔ اپریل 2024 میں اسی اشاریے میں 13.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ماہانی بنیاد پر، اپریل 2025 میں WPI میں 1.3 فیصد کمی ہوئی جبکہ مارچ میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر آپریشن کے دوران خاتون کے پیٹ میں ’بینڈچ‘ بھول گئے، پھر کیا ہوا؟ جانیے
بنیادی مہنگائی کی صورت حال
دلچسپ بات یہ ہے کہ بنیادی مہنگائی (core inflation)، جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں ہوتی، اپریل میں سالانہ بنیاد پر کم ہو کر 7.4 فیصد ہو گئی جو مارچ میں 8.2 فیصد اور اپریل 2024 میں 13.1 فیصد تھی۔ تاہم، ماہ بہ ماہ بنیاد پر اس میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔
حقیقی سود کی شرح اور اقتصادی اثرات
واضح رہے کہ قیمتوں کے دباؤ میں کمی کے باوجود پاکستان کی حقیقی سود کی شرح جو اس وقت 11.72 فیصد پوائنٹس ہے (جبکہ مرکزی بینک کی پالیسی ریٹ 12 فیصد ہے) دنیا کی بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین کا انتباہ ہے کہ طویل عرصے تک زیادہ حقیقی سودی شرح برقرار رکھنا معیشت کی بحالی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور حکومتی قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اسٹیٹ بینک جب کہ مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور مستقبل میں منفی میں جا سکتی ہے، پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک لے آئے۔ ان کے مطابق بنیادی مہنگائی (core inflation) پالیسی ریٹ کے تعین کا کلیدی اشاریہ ہے اور موجودہ حالات میں پالیسی ریٹ میں خاطر خواہ کمی کی گنجائش ہے۔








