بھارت کی ایک اور اوچھی حرکت، پاکستان سے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی لگادی
بھارت کا جارحانہ کردار
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بغیر شواہد کے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے صدارتی انتخابات 2024 کے نتائج
سندھ طاس معاہدے کی معطلی
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پہلگام کے سیاحتی مرکز پر ہونے والے واقعے کے بعد بھارت نے پہلے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر بند کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا نجی ہسپتالوں میں کیمرے نصب کروانے کا حکم
پاکستانیوں کے خلاف اقدامات
پھر طبی بنیادوں پر علاج کے لئے بھارت میں موجود تمام پاکستانیوں اور سفارتی عملے کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نے اداکارہ عفت عمر کو کلچرل ایڈوائزر مقرر کردیا
نئی پابندیاں
اب بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور چال چلتے ہوئے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ بھارتی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فارن ٹریڈ پالیسی 2023 میں ترمیم کرتے ہوئے پاکستان سے ہر قسم کی اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، جو احتجاج کے لیے آئے گا گرفتار ہوگا، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ
مرکزی مفاد کی دلیل
بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہر قسم کی اشیا کی درآمد پر پابندی قومی مفاد میں لگائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن، “را” کی لیک دستاویزات میں چونکا دینے والے انکشافات، بھارتی میڈیا کو کیا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔؟ جانیے
پہلگام واقعہ
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے بغیر شواہد کے پہلگام واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا۔
بھارتی سیاسی and سیکیورٹی صورتحال
تاہم متاثرہ خاندانوں، بھارت کی اپوزیشن جماعتوں حتیٰ کہ بھارت کے کئی اتحادیوں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے بھی پہلگام واقعے کو بھارت کی سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بی جے پی کی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔








