امریکی عدالت نے وائس آف امریکا کے 1000 ملازمین کی بحالی روک دی
امریکی عدالت کا وائس آف امریکا کے ملازمین کی بحالی پر پابندی
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کی وفاقی عدالت نے وائس آف امریکا کے 1000 سے زائد ملازمین کی بحالی کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جس سے ادارے کی بحالی کا عمل غیر یقینی صورت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی رسید کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ ملتوی
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے اس سابقہ حکم کو معطل کرنے کے لیے دیا گیا ہے، جس میں بائیڈن انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ وائس آف امریکا اور اس کی مدر ایجنسی USAGM کو سابقہ حیثیت میں بحال کرے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ڈیزائنر ماریہ بی کوٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف بولنا مہنگا پڑ گیا، سائبر کرائم ایجنسی میں طلب
عدالتی ججز کا تبصرہ
عدالت کے دو جج، نومی راؤ اور گریگری کٹساس نے کہا کہ نچلی عدالت کو اس کیس میں دائرہ اختیار حاصل نہیں تھا، جبکہ جج نینا پیلرڈ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ وائس آف امریکا کی آواز کو "آنے والے وقت کے لیے خاموش" کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماڈل ٹاؤن لاہور میں روزانہ ”فین فٹ بال کلب“ کھیلنے جاتے میرا مقصد کھیلنا کم بچوں کی کمپنی زیادہ تھی، ایک دن سست کھیلاتو عمر بولا”یار ابو! دھیان کریں“
معاملے کی ابتدا
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 مارچ کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے ذریعے USAGM اور چھ دیگر امریکی مالی امداد سے چلنے والے عالمی نشریاتی اداروں (جیسے ریڈیو فری یورپ، ریڈیو فری ایشیا) کو بند کرنے یا محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے میدانی علاقے شدید اور غیر معمولی دھند کی لپیٹ میں آگئے
حکم کے اثرات
اس حکم کے تحت اداروں کی فنڈنگ روک دی گئی اور صحافیوں و عملے کی دفاتر تک رسائی معطل کر دی گئی تھی۔ اپریل کے آخر میں ڈسٹرکٹ جج روائس لیمبرتھ نے اس فیصلے کو غیر آئینی اور غیر منطقی قرار دیتے ہوئے ملازمین کو کام پر واپس بلانے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، ہفتے کے دن اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ عمل دوبارہ روک دیا گیا۔
قانونی جنگ کا آئندہ مرحلہ
USAGM کی سینئر مشیر کاری لیک نے اس عدالتی فیصلے کو ٹرمپ اور صدارتی اختیارات کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔ یہ قانونی جنگ اب مکمل اپیل کی طرف بڑھے گی، اور وائس آف امریکا سمیت کئی امریکی اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔








