بھارت کشیدگی بڑھانے کے بجائے پاکستان سے بات چیت کرے: روس کا دوٹوک مؤقف
روس کی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے حل کی تجویز
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین آفریدی نے قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں حصہ کیوں نہیں لیا؟
روسی وزیر خارجہ کا بیان
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لارؤف نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور کہا کہ شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ کی روشنی میں دونوں ممالک کو سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عہدیدار کا افغانستان میں چھوڑے ہوئے امریکی اسلحے کے پاکستان کے خلاف استعمال پر اظہار تشویش
امن کی حمایت میں روس کا مؤقف
انہوں نے کہا کہ ماسکو امن کا حامی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے۔
یہ بھی پڑھیں: فارم 47 والے الیکشن جیتے نہیں اور عوام کے پیسوں سے ان کی ہر کھمبے پر تشہیر جاری ہے، حماد اظہر
پہاڑوں میں فائرنگ کا واقعہ
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں فائرنگ سے 27 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت نے واقعے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگایا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام ہی اصل طاقت ہیں اور کرشموں کا مرکز ہیں، حکمرانی کے معاہدے کو غلامی کے معاہدے میں تبدیل کر دیا ہے، اس معاہدے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
پاکستان کا جواب
پاکستان نے اس واقعے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی۔
بھارت کی جانب سے دھمکیاں
دوسری جانب، بھارت کی جانب سے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت واضح کر چکی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو اسے ایسا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جو وہ کبھی نہ بھول سکے گا۔








