ایک گیند کو ٹوکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو مشین سے نکلتا ہے، یہ مشین ہر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لگی ہوتی ہے ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 117
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت تنازعات کا سفارتی حل نکالیں، سعودی عرب
نیل بال ٹوکن سسٹم
نیل بال ٹوکن سسٹم میں تحریری اجازت نامے کے بجائے سلور کے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے گیند کو ٹوکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو اس مشین سے نکلتا ہے۔ یہ مشین ہر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لگی ہوتی ہے اور ایک ٹیلی فون لائن کے ذریعے ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم کا بنگلہ دیش کا دورہ، سیریز کا شیڈول جاری
اجازت کا عمل
جب اگلے اسٹیشن ماسٹر سے یہاں سے گاڑی آگے روانہ کرنے کی اجازت لینا ہوتی ہے تو یہ اپنی مشین پر لگے ہوئے ایک مخصوص بٹن کو دباتا ہے، جس سے اگلے اسٹیشن پر لگی ہوئی اسی طرح کی مشین کی گھنٹی بجتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی فون آ رہا ہے تفصیل کے لیے انتظار کریں۔ پھر یہاں کا اسٹیشن ماسٹر فون پر اگلے اسٹیشن ماسٹر کو روانہ کی جانے والی گاڑی کی تفصیل دیتا ہے۔ اگر دونوں اسٹیشنوں کے بیچ لائن خالی ہو تو اگلا اسٹیشن ماسٹر مشین کے کچھ کل پرزے مروڑتا ہے جس سے موجودہ اسٹیشن ماسٹر کی مشین میں اشارہ ملتا ہے کہ لائن کلئیر ہے اور گاڑی آگے آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نفرت، عدم برداشت، نا اتفاقی کا خاتمہ برداشت اور اتفاق کیساتھ ہی ممکن ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
ٹوکن کی ترسیل
اسٹیشن ماسٹر اپنی مشین کے لیور کو کھینچتا ہے تو مشین کے اندر سے یہ چھوٹا سا ٹوکن بال نکل کر نیچے لگے ہوئے ٹرے میں گر جاتا ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں سے پہلے روانہ کی گئی گاڑی اگلے اسٹیشن پر پہنچ چکی ہے یا ان کی حدود سے بھی نکل کر آگے روانہ ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیف اللہ ابڑو نے استعفے کا اعلان کیا، واپس نہیں لے سکتے؛سینیٹر علی ظفر
مشین کی فعالیت
اس مشین میں کچھ ایسا تکنیکی نظام ہوتا ہے کہ اس میں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی ٹوکن بال نکل سکتا ہے، اس کے بعد مشین مقفل ہو جاتی ہے۔ اب یہاں سے گزرنے والی کسی اور گاڑی کا ٹوکن یہاں پہنچے گا تو تب ہی یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش میں 5.7 شدت کا زلزلہ، مشرقی بھارت میں بھی جھٹکے محسوس
ٹوکن بال کا ہینڈلنگ
اس ٹوکن بال کے باہر آتے ہی اس کو ایک چمڑے کی چھوٹی سی پوٹلی میں بند کر کے ایک بڑے ٹینس ریکٹ کی شکل میں بنے ہوئے فولادی آنکڑے یا رنگ میں پھنسا کر ایک ملازم کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: درمیانی مشورے سے طے پایا کہ دریا کے نیچے سے سرنگ نکالی جائے، کھدائی کا کام شروع ہوا، اچانک پانی ٹپکنا شروع ہو گیا اور پھر مقدار بڑھتی ہی چلی گئی۔
عملے کے کام
اگر گاڑی نے یہاں ٹھہرنا ہوتا ہے تو وہ بڑے سکون کے ساتھ لے جا کر اسے ڈرائیور کے حوالے کر دیتا ہے۔ تاہم، اگر گاڑی نے بغیر رکے اس اسٹیشن سے آگے نکلنا ہو تو وہ اس آنکڑے کو لے کر پلیٹ فارم پر جا کر ایک نمایاں جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ آنے والی گاڑی کا اسسٹنٹ ڈرائیور اسٹیشن پر بڑی چابکدستی سے دو کام کرتا ہے: پہلا، یہ کہ اس نے پچھلے اسٹیشن سے جو آنکڑہ اور ٹوکن لیا ہوا ہوتا ہے وہ اس پلیٹ فارم پر پھینک دیتا ہے اور پھر کچھ ہی آگے کھڑے ہوئے اس ملازم کے ہاتھوں سے یہاں کے اسٹیشن ماسٹر کا جاری کیا ہوا ٹوکن بال پکڑنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج سکیم 2026 کے لیے درخواستوں کی وصولی کا پہلا مرحلہ مکمل
خوشی اور چیلنجز
ٹوکن پا کر انجن والے خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔ اگر اسسٹنٹ ڈرائیور کا نشانہ چوک جائے تو وہ انتہائی شرمندگی کی عالم میں ڈرائیور کو اس ”حادثے“ کے بارے میں بتاتا ہے۔ گاڑی کو فوراً بریکیں لگانا پڑتی ہیں اور پھراسٹیشن کا وہی ملازم بھاگتا ہوا وہاں آتا ہے اور ٹوکن ان کے حوالے کردیتا ہے۔
تنبیہ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








