ایک گیند کو ٹوکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو مشین سے نکلتا ہے، یہ مشین ہر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لگی ہوتی ہے ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 117
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس: عدالت نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا
نیل بال ٹوکن سسٹم
نیل بال ٹوکن سسٹم میں تحریری اجازت نامے کے بجائے سلور کے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے گیند کو ٹوکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو اس مشین سے نکلتا ہے۔ یہ مشین ہر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لگی ہوتی ہے اور ایک ٹیلی فون لائن کے ذریعے ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شان مسعود کو 2027 تک ٹیسٹ ٹیم کا کپتان برقرار رکھے جانے کا قوی امکان
اجازت کا عمل
جب اگلے اسٹیشن ماسٹر سے یہاں سے گاڑی آگے روانہ کرنے کی اجازت لینا ہوتی ہے تو یہ اپنی مشین پر لگے ہوئے ایک مخصوص بٹن کو دباتا ہے، جس سے اگلے اسٹیشن پر لگی ہوئی اسی طرح کی مشین کی گھنٹی بجتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی فون آ رہا ہے تفصیل کے لیے انتظار کریں۔ پھر یہاں کا اسٹیشن ماسٹر فون پر اگلے اسٹیشن ماسٹر کو روانہ کی جانے والی گاڑی کی تفصیل دیتا ہے۔ اگر دونوں اسٹیشنوں کے بیچ لائن خالی ہو تو اگلا اسٹیشن ماسٹر مشین کے کچھ کل پرزے مروڑتا ہے جس سے موجودہ اسٹیشن ماسٹر کی مشین میں اشارہ ملتا ہے کہ لائن کلئیر ہے اور گاڑی آگے آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکٹریکل گاڑیوں کے حوالے سے اہم فیصلہ
ٹوکن کی ترسیل
اسٹیشن ماسٹر اپنی مشین کے لیور کو کھینچتا ہے تو مشین کے اندر سے یہ چھوٹا سا ٹوکن بال نکل کر نیچے لگے ہوئے ٹرے میں گر جاتا ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں سے پہلے روانہ کی گئی گاڑی اگلے اسٹیشن پر پہنچ چکی ہے یا ان کی حدود سے بھی نکل کر آگے روانہ ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان سکینڈل، مرکزی ملزم نے پلی بارگین کی درخواست دیدی۔
مشین کی فعالیت
اس مشین میں کچھ ایسا تکنیکی نظام ہوتا ہے کہ اس میں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی ٹوکن بال نکل سکتا ہے، اس کے بعد مشین مقفل ہو جاتی ہے۔ اب یہاں سے گزرنے والی کسی اور گاڑی کا ٹوکن یہاں پہنچے گا تو تب ہی یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور اداکار انور علی کا انتقال
ٹوکن بال کا ہینڈلنگ
اس ٹوکن بال کے باہر آتے ہی اس کو ایک چمڑے کی چھوٹی سی پوٹلی میں بند کر کے ایک بڑے ٹینس ریکٹ کی شکل میں بنے ہوئے فولادی آنکڑے یا رنگ میں پھنسا کر ایک ملازم کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا عزم ہے کہ ہر نوجوان کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی ہنر ضرور ہو، وزیراعلیٰ مریم نواز
عملے کے کام
اگر گاڑی نے یہاں ٹھہرنا ہوتا ہے تو وہ بڑے سکون کے ساتھ لے جا کر اسے ڈرائیور کے حوالے کر دیتا ہے۔ تاہم، اگر گاڑی نے بغیر رکے اس اسٹیشن سے آگے نکلنا ہو تو وہ اس آنکڑے کو لے کر پلیٹ فارم پر جا کر ایک نمایاں جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ آنے والی گاڑی کا اسسٹنٹ ڈرائیور اسٹیشن پر بڑی چابکدستی سے دو کام کرتا ہے: پہلا، یہ کہ اس نے پچھلے اسٹیشن سے جو آنکڑہ اور ٹوکن لیا ہوا ہوتا ہے وہ اس پلیٹ فارم پر پھینک دیتا ہے اور پھر کچھ ہی آگے کھڑے ہوئے اس ملازم کے ہاتھوں سے یہاں کے اسٹیشن ماسٹر کا جاری کیا ہوا ٹوکن بال پکڑنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ضلع فتح گڑھ کے گاؤں میں سکھ خاتون نے اپنی زمین مسجد کی تعمیر کیلئے عطیہ کر دی
خوشی اور چیلنجز
ٹوکن پا کر انجن والے خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔ اگر اسسٹنٹ ڈرائیور کا نشانہ چوک جائے تو وہ انتہائی شرمندگی کی عالم میں ڈرائیور کو اس ”حادثے“ کے بارے میں بتاتا ہے۔ گاڑی کو فوراً بریکیں لگانا پڑتی ہیں اور پھراسٹیشن کا وہی ملازم بھاگتا ہوا وہاں آتا ہے اور ٹوکن ان کے حوالے کردیتا ہے۔
تنبیہ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








