ایک گیند کو ٹوکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو مشین سے نکلتا ہے، یہ مشین ہر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لگی ہوتی ہے ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 117
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان، پولیس کی بروقت کارروائی، فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 مغوی بازیاب
نیل بال ٹوکن سسٹم
نیل بال ٹوکن سسٹم میں تحریری اجازت نامے کے بجائے سلور کے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے گیند کو ٹوکن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو اس مشین سے نکلتا ہے۔ یہ مشین ہر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لگی ہوتی ہے اور ایک ٹیلی فون لائن کے ذریعے ان کا آپس میں رابطہ رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فری لانسنگ کرنے والا تیسرا بڑا ملک، نوجوان بڑی معاشی قوت بن سکتے ہیں: وزیر خزانہ
اجازت کا عمل
جب اگلے اسٹیشن ماسٹر سے یہاں سے گاڑی آگے روانہ کرنے کی اجازت لینا ہوتی ہے تو یہ اپنی مشین پر لگے ہوئے ایک مخصوص بٹن کو دباتا ہے، جس سے اگلے اسٹیشن پر لگی ہوئی اسی طرح کی مشین کی گھنٹی بجتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی فون آ رہا ہے تفصیل کے لیے انتظار کریں۔ پھر یہاں کا اسٹیشن ماسٹر فون پر اگلے اسٹیشن ماسٹر کو روانہ کی جانے والی گاڑی کی تفصیل دیتا ہے۔ اگر دونوں اسٹیشنوں کے بیچ لائن خالی ہو تو اگلا اسٹیشن ماسٹر مشین کے کچھ کل پرزے مروڑتا ہے جس سے موجودہ اسٹیشن ماسٹر کی مشین میں اشارہ ملتا ہے کہ لائن کلئیر ہے اور گاڑی آگے آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اقوام متحدہ میں بصارت سے محروم پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم کی ملاقات
ٹوکن کی ترسیل
اسٹیشن ماسٹر اپنی مشین کے لیور کو کھینچتا ہے تو مشین کے اندر سے یہ چھوٹا سا ٹوکن بال نکل کر نیچے لگے ہوئے ٹرے میں گر جاتا ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں سے پہلے روانہ کی گئی گاڑی اگلے اسٹیشن پر پہنچ چکی ہے یا ان کی حدود سے بھی نکل کر آگے روانہ ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 30 لاکھ کی ڈکیتی، استانی گینگ سمیت گرفتار
مشین کی فعالیت
اس مشین میں کچھ ایسا تکنیکی نظام ہوتا ہے کہ اس میں سے ایک وقت میں صرف ایک ہی ٹوکن بال نکل سکتا ہے، اس کے بعد مشین مقفل ہو جاتی ہے۔ اب یہاں سے گزرنے والی کسی اور گاڑی کا ٹوکن یہاں پہنچے گا تو تب ہی یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7دسمبر تک توسیع
ٹوکن بال کا ہینڈلنگ
اس ٹوکن بال کے باہر آتے ہی اس کو ایک چمڑے کی چھوٹی سی پوٹلی میں بند کر کے ایک بڑے ٹینس ریکٹ کی شکل میں بنے ہوئے فولادی آنکڑے یا رنگ میں پھنسا کر ایک ملازم کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی او ایف ہیڈآفس میں اجلاس، اوورسیز پاکستانیوں کو سرکاری خدمات تک فوری رسائی ملے گی، گفتگو
عملے کے کام
اگر گاڑی نے یہاں ٹھہرنا ہوتا ہے تو وہ بڑے سکون کے ساتھ لے جا کر اسے ڈرائیور کے حوالے کر دیتا ہے۔ تاہم، اگر گاڑی نے بغیر رکے اس اسٹیشن سے آگے نکلنا ہو تو وہ اس آنکڑے کو لے کر پلیٹ فارم پر جا کر ایک نمایاں جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ آنے والی گاڑی کا اسسٹنٹ ڈرائیور اسٹیشن پر بڑی چابکدستی سے دو کام کرتا ہے: پہلا، یہ کہ اس نے پچھلے اسٹیشن سے جو آنکڑہ اور ٹوکن لیا ہوا ہوتا ہے وہ اس پلیٹ فارم پر پھینک دیتا ہے اور پھر کچھ ہی آگے کھڑے ہوئے اس ملازم کے ہاتھوں سے یہاں کے اسٹیشن ماسٹر کا جاری کیا ہوا ٹوکن بال پکڑنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ کا حملہ، اسرائیلی وزیر اعظم کا دفتر تہہ خانے میں منتقل
خوشی اور چیلنجز
ٹوکن پا کر انجن والے خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔ اگر اسسٹنٹ ڈرائیور کا نشانہ چوک جائے تو وہ انتہائی شرمندگی کی عالم میں ڈرائیور کو اس ”حادثے“ کے بارے میں بتاتا ہے۔ گاڑی کو فوراً بریکیں لگانا پڑتی ہیں اور پھراسٹیشن کا وہی ملازم بھاگتا ہوا وہاں آتا ہے اور ٹوکن ان کے حوالے کردیتا ہے۔
تنبیہ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








