کراچی کب تک لوڈشیڈنگ فری ہو جائے گا؟ کے الیکٹرک حکام نے بتادیا
اسلام آباد میں اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کے اجلاس میں کے الیکٹرک حکام کا کراچی کو لوڈشیڈنگ فری کرنے کے حوالے سے اہم بیان آیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر (ن) لیگ نواز شریف اور مریم نواز سے گورنر سندھ کی ملاقات
فاٹا کے گھریلو صارفین کی بلنگ
تفصیلات کے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس ہوا، سیکرٹری پاور نے کہا کہ 2008 سے فاٹا کے گھریلو صارفین کی بلنگ نہیں ہوئی، فاٹا کے گھریلو صارفین مفت بجلی کی سہولت استعمال کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ملزمان کو حوالات میں رکھاجائے، شخصی ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، آئی جی پنجاب
کراچی میں بارشوں کی تیاری
سابق وفاقی وزیراور رکن قومی اسمبلی سید امین الحق نے سوال کیا کہ کراچی میں بارشیں متوقع ہیں کیالیکٹرک کی کیا تیاری ہے؟ کیا کراچی کبھی لوڈشیڈنگ فری ہو جائے گا؟
چیف ڈسٹری بیوشن آفیسر نے بتایا کہ بارشوں کے پیش نظر مانیڑنگ سیل متحرک ہے، کراچی میں 70 فیصد فیڈرز لوڈشیڈنگ سے مستثنی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5 جی سروسز کا آغاز، بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس جاری
لوڈشیڈنگ فری کراچی کا منصوبہ
کے الیکٹرک آفیسر کا کہنا تھا کہ سال 2030 تک کراچی کو لوڈشیڈنگ فری کرنے کا پلان بنایا ہے، کے الیکٹرک 40 فیصد نقصانات کو 15 فیصد تک لے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے پاکستان کو شکست دے کر انڈر 19 سیریز اپنے نام کر لی
سبسڈی اور بجلی کی مہنگائی
سیکرٹری پاور نے کہا کہ کے الیکٹرک کی بجلی کی پیداوار بہت مہنگی تھی، کے الیکٹرک کوایک سال میں 170ارب تک کی سبسڈی فراہم کی گئی، کے الیکٹرک کوسبسڈی نہ دیتے تو فی یونٹ بجلی 70روپے کی پڑتی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آٹے کا بحران، 20 کلو آٹے کا تھیلا 100 روپے سے 150 روپے تک مہنگا
حیسکو کی کارکردگی
اجلاس میں سی ای او حیسکو اور وزیر توانائی اعداد و شمار پر آمنے سامنے آگئے، سی ای او حیسکو نے کہا کہ حیسکو کے نقصانات 32 سے 25 فیصد تک لے آئے ہیں، واجبات کی وصولیوں کی شرح 73 سے 80 فیصدتک لے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی میں موسیقی کے پروگرام پر فائرنگ، 2 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے
اعداد و شمار پر اختلاف
وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ جو نمبرز بتائے جارہے ہیں، ان سے متفق نہیں ہوں، ہمارے پاس جو اعداد و شمار ہیں وہ مختلف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے کسانوں کے لیے اہم فیصلہ کر لیا
مستقبل کی پیشگوئی
پاور ڈیژن حکام نے کہا کہ مارچ تک ان اعداد و شمار کی اس طرح کی صورتحال نہیں تھی، حیسکو کے مارچ 2024 میں نقصانات 25.6 تھے، جو 2025 میں 26.7 ہوچکے ہیں، حیسکو کی ریکوری کی شرح 88.8 سے کم ہو کر 71.9 فیصد تک آگئی ہے۔
بجلی کمپنیوں کی کمی
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حیسکو کے نتائج بلکل بھی اچھے نہیں ہیں، ای سی سی کو تفصیلات دی ہیں یا وہ غلط ہیں یا یہ غلط ہیں، حیسکو کی ریکوری کی شرح 9.9 فیصد کم ہوئی ہے، بجلی کمپنیوں میں اسٹاف کی شدید کمی ہے، بجلی کمپنیوں میں 80 ہزار اسامیاں خالی ہیں، بجلی کمپنیوں میں 22 ہزار حساس نشستوں میں بھرتیوں کی ضرورت ہے۔








