مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں باضابطہ سماعت کیلئے منظور
سپریم کورٹ کی سماعت کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں کو باضابطہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کے گھر سے ڈاکو 2 کروڑ روپے کا سامان لے اڑے
بینچ کی تشکیل اور رائے
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، 13 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی اور بینچ کے 11 اراکین نے اکثریتی رائے سے نظرثانی درخواستوں پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دیا۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل کی تاریخ مقرر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے قومی دن پر جدہ میں پاکستانی صحافیوں کی تقریب، کیک کاٹا گیا
بینچ کے اراکین
بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شاہد بلال، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق، اور جسٹس باقر نجفی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بس جیے جا رہے ہیں خدا کے سہارے ۔۔۔۔
اختلافی نوٹ
اختلافی نوٹ میں دونوں معزز جج صاحبان نے مؤقف اختیار کیا کہ نظرثانی کی بنیاد پر فیصلہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اور معاملے میں قانونی طور پر کوئی نئی بات پیش نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جدید پھل اور سبزی مارکیٹس کا تعارف
مسلم لیگ (ن) کے وکیل کی دلیل
مسلم لیگ (ن) کے وکیل حارث عظمت نے روسٹرم سنبھالا اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستیں ایک ایسی جماعت کو دی گئیں جو کیس میں فریق ہی نہیں تھی۔ جس پر جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس نکتے کا جواب فیصلے میں دیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون ٹیچر کے تبادلے پر عدالتی فیصلے کیخلاف خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل خارج
عدالت میں سوالات اور جوابات
جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا، کیا ہم ایک پارٹی کی غلطی کی سزا پوری قوم کو دیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس میں ایک چیز آئی تو اسے جانے دیتے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سارے نکات تفصیل سے سن کر فیصلہ دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حیدر آباد: گھر میں آتشزدگی سے بچی اور خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق
عمل درآمد پر سوالات
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے پر عملدرآمد ہوا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ مجھے کنفرم نہیں ہے۔ جس پر جسٹس عائشہ ملک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے کھڑے ہیں، یہ کیا بات ہوئی کہ آپ کو کنفرم نہیں؟
یہ بھی پڑھیں: ابوظہبی میں ایران حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پر 109 افراد گرفتار
الیکشن کمیشن کا موقف
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ریلیف لینے کے لیے عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے واضح کیا کہ کوشش کریں کہ فیصلے میں خامی کی نشاندہی کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اتوار کی دوپہر عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ اڈیالہ جیل میں کرایا گیا، ایک ڈوز Eylea انجیکشن دی جا چکی ہے اور دوسری ڈوز 25 فروری کو دی جائے گی،طارق فضل چودھری
سپریم کورٹ کا فیصلہ
بعد ازاں، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے نظرثانی درخواستوں کو باضابطہ طور پر سماعت کے لیے منظور کر لیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔ تاہم جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے تینوں درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
مخصوص نشستوں کا فیصلہ
یاد رہے کہ 12 جولائی 2023 کو سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ان نشستوں پر نمائندگی دینے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا تھا، تاہم وہ نظرثانی کیس سننے والے موجودہ بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔








