جنگ کی صورت میں مسلح افواج کو ایندھن فراہمی کے لئے پاکستانی ریفائنریوں نے تیاری کر لی
وفاقی وزیر پٹرولیم کی ملاقات
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان کی بڑی ریفائنریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں موجودہ علاقائی تناظر، خصوصاً پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر دفاعی ضروریات کے لیے ایندھن کی تیاری اور صنعتی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائم مقام گورنر کی گورنر ہاؤس آمد، کامران ٹیسوری دفتر کی چابیاں بھی بیرون ملک ساتھ لے گئے
دفاعی ضروریات کے لیے اقدامات
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق وفاقی وزیر نے ملکی ریفائنریز کی جانب سے دفاعی ضروریات کے سلسلے میں کیے گئے پیشگی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا ایک لاکھ 25 ہزار تنخواہ تک ٹیکس چھوٹ دینے کا مطالبہ
ریفائننگ انڈسٹری کی ترقی
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت ریفائننگ انڈسٹری کی اپگریڈیشن، طویل مدتی استحکام اور صارفین کے لیے سستی و پائیدار توانائی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سازگار پالیسی ماحول کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کا اعادہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر علی ظفر نے علامہ راجا ناصر عباس کی بطور اپوزیشن لیڈر تعیناتی کے لئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا
ریفائنری اداروں کی تیاری
ریفائنری سی ای اوز نے وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاک فوج کی ایندھن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریفائنری ادارے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، دونوں ملکوں میں 550 شیڈول پروازیں منسوخ
اسٹریٹجک ایندھن کے ذخائر
ان کا کہنا تھا کہ اسٹریٹجک ایندھن کے ذخائر اور بلا تعطل پیداواری صلاحیت کے ذریعے کسی بھی صورت حال میں مسلح افواج کی مکمل معاونت ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی فضاء میں نمایاں بہتری، اینٹی سموگ ایکشن مؤثر انداز میں جاری ہے : سینئر وزیر مریم اورنگزیب
وفد کی تفصیلات
وفد میں پاکستان ریفائنری لمیٹڈ، پارکو، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ اور سائنرجیکو کے سربراہان شامل تھے، جنہوں نے وزیر کو ریفائننگ سیکٹر میں درپیش چیلنجز اور مواقع پر بھی آگاہ کیا۔
مستقبل کے لائحہ عمل
ملاقات میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت، مقامی پیداوار کے فروغ اور درآمدی انحصار میں کمی کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو کی گئی، جس پر وزیر پٹرولیم نے مکمل حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔








