غزہ کے 20 لاکھ افراد کی جبری منتقلی کی تیاری؟ اسرائیل نے خطرناک منصوبہ بنا لیا
اسرائیلی فضائی حملے
غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی فوج نے ایک ہی دن میں یمن، لبنان، شام اور غزہ پر فضائی حملے کئے، جس کے نتیجے میں غزہ میں کم از کم 54 فلسطینی شہید ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اب سمجھ آ رہی تھی کہ روزانہ رات کو زار و قطار روتے ہوئے کیوں اسکی یاد رہ رہ کر آ رہی تھی، کیوں اسے خط لکھ کر اپنا دل ہلکا کیا کرتا تھا اور صبح اْٹھ پھاڑ دیتا تھا
نئی زمینی کارروائی کی تیاری
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں ایک نئی زمینی کارروائی کے اشارے بھی دے دیے ہیں، جس کے تحت 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو علاقے سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2025ء کی آخری قومی انسدادِ پولیو مہم کا کل سے باقاعدہ آغاز ہوگا
ہسپتالوں کی صورتحال
غزہ میڈیا آفس کے مطابق ہسپتالوں کے پاس صرف 48 گھنٹے کی سہولیات باقی ہیں اور ہزاروں مریضوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں میں 52,567 فلسطینی شہید اور 118,610 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ملبے تلے ہزاروں افراد کو مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیچہ وطنی میں ٹریلر کی موٹرسائیکل کو ٹکر، خاتون سمیت تین افراد جاں بحق
یمن میں بمباری
دوسری جانب اسرائیل کے 30 جنگی طیاروں نے یمن کے شہر الحدیدہ پر بمباری کی، جس میں ایک شخص ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔ یہ حملے تل ابیب کے ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے کے بعد کئے گئے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ ایرانی اسلحے اور دہشت گردی کی معاونت کا ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کلائمیٹ چینج واریئر بن کر عالمی سطح پر پنجاب کی شناخت بڑھائیں گے: وزیر تعلیم پنجاب
غزہ میں فوجی کارروائی کی توسیع
ادھر اسرائیلی کابینہ نے غزہ پر قبضے اور فوجی کارروائی کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے متوقع دورے کی منتظر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی صاحبان کے لیے گاڑیوں کی خریداری: جماعت اسلامی نے فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
اقوام متحدہ کا بیان
اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے مغربی میڈیا کی جانب سے اسرائیل کے جنگی جرائم کو نظر انداز کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔
مغربی کنارے میں حملے
مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں نے فلسطینی کسانوں کے زیتون کے درجنوں درخت کاٹ دیے، جس سے مقامی کسان افسردہ اور بے بس ہو گئے ہیں۔








