اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی 4 ہفتے میں کرنے کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدہ افراد بازیابی کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی چار ہفتے میں کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی فائرنگ واقعہ دہشتگردی قرار، حملہ آور باپ بیٹا نکلے، پولیس کا مزید ملزمان کی تلاش ختم کرنےکا اعلان
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ شہری عمر عبداللہ کی بازیابی سے متعلق انکی اہلیہ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے چیئرمین کی تعیناتی کے بعد درخواست گزار کی امدادی رقم کی کمیٹی سے منظوری کا عمل دو ہفتے میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک کو بھارت میں تجارتی آپریشن کیلئے لائسنس مل گیا
امدادی رقم کی منظوری
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ درخواست گزار کیلئے امدادی رقم کی منظوری دی جا چکی ہے۔ نئے چیئرمین کی تعیناتی کے بعد ہم امدادی رقم پر کارروائی آگے بڑھا سکیں گے، کیونکہ جبری گمشدہ افراد بازیابی کمیشن کے چیئرمین امدادی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا طویل ترین 80 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل 21 واں اجلاس، اہم فیصلے
چیئرمین کی تعیناتی کا پراسیس
عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین کمیشن کی تعیناتی کا پراسیس کس مرحلے میں ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ کا کہنا تھا کہ چھ ہفتے کا وقت دیدیں، تعیناتی ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ضلع کچہری اسلام آباد میں خودکش دھماکے پر پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی
بچے کے ساتھ عدالتی تعامل
جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ عمر عبداللہ کے بیٹے کو اپنے پاس بلا کر کرسی پر بٹھا لیا، اور کہا کہ المیہ یہ ہے کہ اس بچے نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گھر چھوڑ کر جانے والے نوجوان کو موٹروے پولیس نے بس سے اتار کر خاندان کے حوالے کر دیا
انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ان کیمرہ بریفنگ
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ عدالت نے آرڈر کیا تھا کہ مسنگ پرسن سے متعلق کوئی بھی انفارمیشن عدالت سے شیئر کریں، مجھے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کمیٹی کے نمائندوں سے ان کیمرہ بریفنگ چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کن ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ؟ ایرانی حکام کا بیان آ گیا
ریاست کی ذمہ داریاں
جسٹس محسن کیانی نے مزید کہا کہ ریاست کو بتانا ہوگا کہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے۔ اس فیملی کو معاوضہ مل جانا مسئلے کا حل نہیں، جنگ کے باوجود یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1. 8 فروری کو گھروں میں رہیں، کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رکھیں، علیمہ خان
پچھلی کمیشن کی کارکردگی
انہوں نے کہا کہ پچھلے جبری گمشدگی کمیشن نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ کیس اس ہائیکورٹ میں پچھلے آٹھ نو سال سے زیرالتواء ہے۔
کیس کی سماعت کا فیصلہ
بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدہ افراد بازیابی کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی کے حکم کے ساتھ کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔








