8 ہزار اکاؤنٹ بند کرو ورنہ تمہارا عملہ گرفتار کر لیں گے، بھارتی حکومت بیانیے کی جنگ ہارنے لگی، ایکس نے سر عام ایکسپوز کر دیا
بھارتی حکومت کی جانب سے X کو بلاک کرنے کے احکامات
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے اسے آٹھ ہزار سے زائد اکاؤنٹس کو بھارت میں بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر ان احکامات کی تعمیل نہ کی گئی تو کمپنی کو بھاری جرمانے اور بھارت میں موجود عملے کی گرفتاری جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں کوئی نیا آپریشن نہیں کرنے جا رہے، بھارت چھپ کر وار کر رہا ہے : طلال چودھری
بلاک کیے جانے والے اکاؤنٹس کی نوعیت
ایکس انتظامیہ کے مطابق ان احکامات میں کچھ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور نمایاں صارفین کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں جنہیں بلاک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بیشتر امور میں حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان اکاؤنٹس نے کون سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ کئی کیسز میں تو کوئی ثبوت یا جواز فراہم ہی نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مرغی کی قیمت میں مزید اضافہ، لاہور میں 590 روپے تک فروخت ہونے لگی
ایکس کا مؤقف
ایکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل درآمد تو کر رہا ہے، لیکن وہ بھارتی حکومت کے ان اقدامات سے اتفاق نہیں کرتا۔ کمپنی کے مطابق "پورے اکاؤنٹس کو بلاک کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ یہ موجودہ اور آئندہ مواد کی سینسرشپ کے مترادف ہے، اور آزادی اظہار کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں تنازعات، دنیا بھر میں ساڑھے 4 کروڑ افراد شدید بھوک کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں: ورلڈ فوڈ پروگرام نے خدشات کا اظہار کر دیا
قانونی چارہ جوئی کی کوششیں
ایکس نے مزید کہا کہ اس نے متاثرہ صارفین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ بھارتی عدالتوں سے قانونی چارہ جوئی کریں۔
ایکس نے کہا کہ وہ تمام ممکنہ قانونی راستوں پر غور کر رہا ہے، تاہم بھارتی قوانین کمپنی کو براہ راست چیلنج دائر کرنے سے روکتے ہیں۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومتی احکامات کو شفاف بنانے کے حق میں ہے، لیکن قانونی پابندیوں کے باعث وہ فی الحال ان احکامات کو شائع نہیں کر سکتی۔
برسوں سے معلومات کی دستیابی کا تحفظ
ایکس کا مؤقف ہے کہ اگر پلیٹ فارم بھارت میں مکمل طور پر بند ہو جائے تو لوگوں کی معلومات تک رسائی محدود ہو جائے گی، اسی لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن ضروری تھا۔








