دنیا بدامنی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: صدر شی جن پھنگ، شی جن پھنگ کی پوتن کے ساتھ چائے پر گفتگو
چین اور روس کے تزویراتی تعلقات
ماسکو (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ چین اور روس کو تزویراتی عزم اور ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے کیونکہ دنیا بدامنی اور تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارتی سازش کو بے نقاب کردیا
صدر شی جن پھنگ کی گفتگو
شی جن پھنگ نے یہ بات ماسکو میں کریملن کے صدارتی دفتر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ چائے پر گفتگو کے دوران کہی۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی نے بیوی کے سامنے شوہر کے معاشقے کی پول کھول دی
تزویراتی عزم کی مضبوطی
چینی صدر نے کہا کہ جب تک چین اور روس تزویراتی عزم اور ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں، کوئی طاقت ان دونوں ممالک کو اپنی ترقی اور احیاء حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی، اور نہ ہی دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دیرینہ دوستی کی مضبوط بنیاد کو متزلزل کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں ادھار رکھنے والا انسان نہیں، اپنی تقریرمیں بھارتی سپریم کورٹ بار کے وکیل کے جواب میں کہا برابری کی سطح پر تعلقات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں
صدر پوتن کا نقطہ نظر
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس اور چین ہمیشہ یکجہتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ایک اٹوٹ دوستی قائم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں بھارت سے ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ جس کا مقابلہ نہ کرسکتے ہوں: شاہد خاقان عباسی
دوطرفہ تعلقات کی ترقی
پوتن نے صدر شی جن پھنگ کے ساتھ قریبی تزویراتی رابطے برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور زیادہ منصفانہ، جمہوری اور کثیر قطبی دنیا کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بیگم آباد احمد خاں پیپلز پارٹی کی طرف سے ایم پی اے بنیں، 1960ء کے عشرہ میں ہمارے ادارہ پاکستان یوتھ موومنٹ کے سیمینارز میں تشریف لائیں
یوکرین بحران پر بات چیت
دونوں سربراہان مملکت نے یوکرین بحران اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین عالمی سطح پر مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کی حمایت کرتا ہے۔
امن مذاکرات کی ضرورت
روسی صدر نے یوکرین کے بحران کے سیاسی حل پر چین کے معروضی اور غیر جانبدارانہ مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس بغیر کسی پیشگی شرائط کے امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔








