پاکستان کا جنگ بندی میں امریکی کردار کا اعتراف لیکن بھارت اس کردار کو کیوں قبول نہیں کر رہا؟
جنگ بندی کا اعلان
اسلام آباد/ نئی دہلی (ڈیلی پاسکتان آن لائن) ہفتے کے روز بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی میں امریکہ کے کردار کو سراہا، اور پاکستان نے بھی اس کی تعریف کی، لیکن بھارت نے اسے کم اہمیت دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم، 100 انڈیکس ایک لاکھ 62 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کر گیا
غیر ملکی مداخلت پر نقطہ نظر
سی این این کے مطابق کشیدگی کی اپنی طویل تاریخ میں بھارت اور پاکستان دونوں نے غیر ملکی مداخلت کو مختلف انداز میں دیکھا ہے۔ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں بھارت اور جنوبی ایشیا کی ریسرچ فیلو اپرنا پانڈے کے مطابق "بھارت نے کسی بھی تنازعے میں کبھی ثالثی قبول نہیں کی، چاہے وہ بھارت پاکستان ہو یا بھارت چین، یا کوئی اور۔"
یہ بھی پڑھیں: اب ہمیں معاشی جنگ جیتنی ہے: غریدہ فاروقی
بھارت اور پاکستان کی حکمت عملی
انہوں نے کہا "تو ہاں، بھارت پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن وہ کبھی یہ نہیں کہے گا کہ کسی دوسرے ملک یا بین الاقوامی تنظیم کا کوئی کردار تھا۔"
انہوں نے مزید کہا "دوسری طرف، پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی ثالثی کی کوشش کی ہے، اس لیے وہ اس کی تعریف کرے گا۔" انہوں نے کہا کہ یہ "واحد طریقہ ہے جس سے وہ کشمیر کے تنازعے پر بات چیت اور حل کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔"
وزیر اعظم پاکستان کی تعریف
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کروانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر مائیک وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے کردار کی تعریف کی ہے تاہم بھارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ جنگ بندی دونوں ممالک کی اپنی کوششوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔








