ٹرمپ انتظامیہ پاک بھارت جنگ بندی کیلئے کیوں متحرک ہوئی؟
امریکی صحافی کی رپورٹ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صحافی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے پس منظر میں ہونے والی امریکی کوششوں کی تفصیل بیان کردی۔
یہ بھی پڑھیں: لاس اینجلس میں تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، شدید جھڑپیں جاری، ہزاروں سکیورٹی گارڈز تعینات
نائب صدر کا اقدام
نجی ٹی وی جیو نیوز نے امریکی صحافی ایلینا ٹرینے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی نائب صدر نے جنگ بندی مذاکرات کے لئے وزیراعظم مودی کو فون کیا۔ نائب صدر جے ڈی وانس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاوس کے چیف آف سٹاف پاک بھارت تنازع کو مانیٹر کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے اتنا کیوں بھگایا؟ پروٹیز سے جیت کے بعد سلمان آغا کا بابر سے دلچسپ انٹرویو
تشویشناک انٹیلی جنس اطلاع
صحافی کے مطابق جمعے کی صبح امریکہ کو ایک تشویشناک انٹیلی جنس اطلاع موصول ہوئی، جس کی حساس نوعیت کی وجہ سے امریکی عہدے داروں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس معلومات کی وجہ سے امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی میں اپنی مداخلت بڑھائی۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی جسم کو اندر سے کھانے والی فنگس کے پھیلاؤ میں اضافہ
مودی کے ساتھ رابطہ
نائب امریکی صدر جے ڈی وانس نے بھارتی وزیراعظم مودی کو فون کیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو ہفتے کے اختتام پر اس میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مودی پر پاکستان سے براہ راست رابطہ کرنے کے لئے زور دیا اور کشیدگی کم کرنے کے متبادل راستوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کولوسس اور ایکس اے آئی: وہ پراسرار سپر کمپیوٹر جو چلانے کے لیے 10 لاکھ گیلن پانی اور 150 میگا واٹ بجلی کا محتاج ہے
پاکستان کے لئے قابل قبول متبادل
امریکی صحافی کے مطابق وانس نے مودی کو ایک ممکنہ متبادل راستے کی تجویز دی جو پاکستان کے لئے بھی قابل قبول ہوسکتی تھی۔ اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور محکمہ خارجہ کے اہلکار رات بھر بھارت اور پاکستان کے حکام سے رابطے میں رہے۔
ترامپ انتظامیہ کا کردار
صحافی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ انہوں نے دونوں فریقین کو بات چیت پر آمادہ کیا۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ نائب صدر وانس کا مودی کو فون کرنا اس سارے معاملے میں ایک اہم موڑ تھا۔








