ٹرمپ انتظامیہ پاک بھارت جنگ بندی کیلئے کیوں متحرک ہوئی؟
امریکی صحافی کی رپورٹ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صحافی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے پس منظر میں ہونے والی امریکی کوششوں کی تفصیل بیان کردی۔
یہ بھی پڑھیں: زیر زمین کال کوٹھڑیاں اور ان کے کوڈز: دمشق کی بدنام صیدنایا جیل سے سامنے آنے والی انسانی مذبح خانہ کی کہانیاں
نائب صدر کا اقدام
نجی ٹی وی جیو نیوز نے امریکی صحافی ایلینا ٹرینے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی نائب صدر نے جنگ بندی مذاکرات کے لئے وزیراعظم مودی کو فون کیا۔ نائب صدر جے ڈی وانس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاوس کے چیف آف سٹاف پاک بھارت تنازع کو مانیٹر کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کیلئے حماس کو آخری وارننگ دے دی
تشویشناک انٹیلی جنس اطلاع
صحافی کے مطابق جمعے کی صبح امریکہ کو ایک تشویشناک انٹیلی جنس اطلاع موصول ہوئی، جس کی حساس نوعیت کی وجہ سے امریکی عہدے داروں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس معلومات کی وجہ سے امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی میں اپنی مداخلت بڑھائی۔
یہ بھی پڑھیں: نریندرمودی کے دور میں اسرائیلی سفیر ’’وائسرائے‘‘کی حیثیت رکھنے لگا،دباؤ پر مبنی پالیسیوں کیخلاف بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں
مودی کے ساتھ رابطہ
نائب امریکی صدر جے ڈی وانس نے بھارتی وزیراعظم مودی کو فون کیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو ہفتے کے اختتام پر اس میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مودی پر پاکستان سے براہ راست رابطہ کرنے کے لئے زور دیا اور کشیدگی کم کرنے کے متبادل راستوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدت کیس، عمران اور بشریٰ بی بی کی بریت کیلئے پارٹی نے ’’حکام‘‘ سے مدد مانگی تھی، انصار عباسی کا دعویٰ
پاکستان کے لئے قابل قبول متبادل
امریکی صحافی کے مطابق وانس نے مودی کو ایک ممکنہ متبادل راستے کی تجویز دی جو پاکستان کے لئے بھی قابل قبول ہوسکتی تھی۔ اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ اور محکمہ خارجہ کے اہلکار رات بھر بھارت اور پاکستان کے حکام سے رابطے میں رہے۔
ترامپ انتظامیہ کا کردار
صحافی کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ انہوں نے دونوں فریقین کو بات چیت پر آمادہ کیا۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ نائب صدر وانس کا مودی کو فون کرنا اس سارے معاملے میں ایک اہم موڑ تھا۔








