پاکستان کا سپر ٹیکس میں کمی کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کا فیصلہ
پاکستان کا آئی ایم ایف سے رابطہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے سپر ٹیکس میں کمی کے لئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے، ٹرمپ کا اعلان
سپر ٹیکس میں ممکنہ کمی کی وجوہات
نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایف بی آر نے سپر ٹیکس میں کمی کے لئے آئی ایم ایف سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر سپر ٹیکس میں کمی نہ ہوئی تو سرمایہ کاری دبئی منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف عدالتوں میں سپر ٹیکس کے 200 ارب کے مقدمات زیر التوا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ نے ”پرواز کارڈ“ کا افتتاح کر دیا، 3 لاکھ روپے بلاسود دینے کا اعلان، ایسے پنجاب کا خواب دیکھتی ہوں جہاں ہر چیز پر ”میڈ ان پنجاب“ لکھا ہو: مریم نواز
سپر ٹیکس کا پس منظر
ذرائع ایف بی آر کا بتانا ہے کہ 2022 میں عام آدمی کو ٹیکس سے بچانے کے لئے بڑی صنعتوں پر ٹیکس لگایا گیا تھا۔ اس ٹیکس میں سیمنٹ، سٹیل، شوگر انڈسٹری، آئل اینڈ گیس، اور ایل این جی ٹرمینل شامل ہیں۔ اس وقت ملک کی بڑی صنعتوں پر ٹیکس کے علاوہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہے۔
ٹیکس کی مجموعی شرح
موجودہ وقت میں بڑی صنعتوں پر ٹیکس کی مجموعی شرح، 10 فیصد سپر ٹیکس کے ساتھ مل کر 39 فیصد ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.4 فیصد ہو چکی ہے۔ جون تک اس شرح کو 10.6 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے جبکہ اگلے سال کے لئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا ہدف 11 فیصد مقرر کیا جائے گا۔








