سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل کرنے کی کوئی شق نہیں، صدر ورلڈ بینک
سندھ طاس معاہدے کی حیثیت
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے یکطرفہ معطل کرنے یا ختم کرنے کی کوئی شق نہیں ہے۔ معاہدے میں تبدیلی یا اسے ختم کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کا متفق ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اگلے انجیکشن کے لیے 25 فروری کو اسپتال منتقل کیا جائے گا، طارق فضل چودھری
معاہدے کی معطلی کے متعلق وضاحت
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اجے بنگا نے کہا کہ بھارت نے تکنیکی طور پر معاہدہ التوا میں ڈالا ہے، اس لیے معاہدے کے طے شدہ طریقہ کار کی پاسداری ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف سکھ رہنما بھی بول پڑے: “ہم انڈین آرمی کو پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیں گے” سکھ تنظیم نے اہم اعلان کر دیا
ورلڈ بینک کا کردار
اجے بنگا نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار ایک سہولت کار کا ہے نہ کہ ثالث کا۔ یہ معاہدہ دو خودمختار ملکوں کے درمیان ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک اس معاہدے پر ایک نظر ڈالیں اور تعمیری انداز میں بات چیت کریں تاکہ معاہدے کی سالمیت اور اس میں موجود تعاون کے جذبے کو برقرار رکھا جا سکے۔
تنازعات میں مداخلت
انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات میں کوئی فیصلہ کرے یا مداخلت کرے۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ جب دونوں فریق درخواست دیں تو غیر جانبدار ماہرین یا ثالثی کے پینل کا تقرر کرے تاکہ اختلافات کو حل کیا جا سکے۔








