جج کے ٹرانسفر کو عدلیہ کی آزادی کے تناظر میں دیکھا جائے، وکیل منیر اے ملک
سپریم کورٹ میں ججز کی ٹرانسفر کے کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں ججز ٹرانسفر سے متعلق کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کوئی جج مستقل جج کا حلف نہیں اٹھاتا۔ پہلے ایڈیشنل جج کا حلف ہوتا ہے پھر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے وہ مستقل ہوتا ہے۔ ججز کی ٹرانسفر کی نئی تعیناتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر نے شوہروں کو قابو کرنے کا راز بتا دیا
وکیل منیر اے ملک کے دلائل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججز کی سنیارٹی عدلیہ کی آزادی کے ساتھ منسلک ہے۔ جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ ماضی میں لاہور ہائی کورٹ کے 3 جج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ سنیارٹی کا تعین کون کرے گا؟ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ سنیارٹی کا تعین چیف جسٹس کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات
چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے سنیارٹی تعین کا اختیار انتظامی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس کے انتظامی فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کہاں رجوع کرے گا؟ وکیل منیر اے ملک نے جواب دیا کہ متاثرہ فریق مجاز عدالت سے داد رسی کے لیے رجوع کرے گا۔ اسلام آباد اور دیگر ہائیکورٹس میں تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل مختلف ہوتی ہے۔ ہر ہائیکورٹ کے جج کا حلف الگ اور حلف لینے والا بھی الگ ہوتا ہے۔
ججز کی ٹرانسفر اور عدلیہ کی آزادی
جسٹس محمد علی مظہر نے واضح کیا کہ کوئی جج مستقل جج کا حلف نہیں اٹھاتا۔ پہلے ایڈیشنل جج کا حلف ہوتا ہے، جس کے بعد جوڈیشل کمیشن کے ذریعے وہ مستقل ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرانسفر کی نئی تعیناتی قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ منیر اے ملک نے اصرار کیا کہ ججز کی ٹرانسفر کو عدلیہ کی آزادی کے تناظر میں دیکھا جائے۔








