پشاور ہائیکورٹ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی رہائی کے لیے دائر درخواستیں خارج
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی سزا مکمل ہونے پر 382 بی کا فائدہ دے کر رہا کرنے کی دائر درخواستیں خارج کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارات میں بروقت چمچ نہ ملنے پر باراتی آپس میں لڑپڑے، ویڈیو وائرل
عدالت کا تفصیلی فیصلہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، عدالت نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دی گئیں، جو کہ ایک خاص قانون ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بار بار قرضہ لینے سے معیشت کمزور پڑ جاتی ہے، ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشییٹو سیشن میں شہباز شریف کا خطاب
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی وضاحت
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا بیان ہے کہ ملزمان کو سیکشن 382 بی کا فائدہ دیا جا چکا ہے اور انہیں خصوصی قانون کے تحت سزائیں دی گئی ہیں، جو کہ عام قانون پر فوقیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا “سارک” سکیم کے ویزے رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کاالٹی میٹم ، سیما حیدر کا مستقبل کیا ہوگا؟ جانیے
ملزمان کی رہائی کی درخواست
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق سزا مکمل ہونے کے باوجود ملزمان جیل میں ہیں۔ مزید یہ کہ، سزا مکمل ہونے کے باوجود رہائی نہ ہونا آئین کے آرٹیکل 9، 13، 14، اور 25 کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق، ملٹری کورٹ کی سزا اس وقت سے شروع ہوگی جب کارروائی مکمل ہو کر دستخط کرتے ہیں۔
خارج کی جانے والی درخواستیں
عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ ملزمان کو 382 (بی) کا فائدہ دیا گیا ہے، لہٰذا ملزمان کی درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔








