آج بھی مل بیٹھتے ہیں تو اُس دور کی یادیں دوڑی چلی آتی ہیں، بس ایک کسک رہتی ہے کہ کچھ چہرے جو ہمیشہ مسکراتے تھے اب ابدی گھروں کو جا چکے ہیں
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 169
یہ بھی پڑھیں: رشید ملک/نعمان اور فرانس/طفیل 60+ ڈبلز فائنل میں پہنچ گئے
تربیتی پروگرام کا اختتام
قار ی ضیا ء نے شرکاء تربیت کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا؛ “یہ نوجوان افسر جو اعلی تعلیم یافتہ ہیں انشا اللہ محکمہ کی توقعات پر پورا اتریں گے۔“ پر تکلف چائے سے یہ وزٹ اختتام پذیر ہوا۔ ڈائریکٹر آفس کی ورکنگ کے حوالے یہ دورہ بڑا مفید تھا۔ اگلے 2 روز فیلڈ attachment کی رپورٹس پیش کرنے اور ان پر سوال و جواب کے لئے مختص تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا 4 سالہ پاکستانی بچی عائزہ کا کامیاب علاج
تربیت کا آخری ہفتہ
لوٹ کے بدھو دفتر آئے؛ تربیت کا آخری ہفتہ بھی گزر گیا۔ دوستوں کی فیلڈ رپورٹس کے دو دن بڑی سیر حاصل گفتگو رہی۔ دوستوں اور انسٹر کٹرز کے تجربات نے بہت سی باتوں کی کلیرٹی کر دی۔ اگلے روز تحریری امتحان تھا جس میں میرے 77 نمبر وں نے مجھے دوسری پوزیشن دلا دی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ پر جعلی دستاویزات پر 2 مسافر آف لوڈ جبکہ لاہور سے انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث 2 اسمگلر گرفتار کر لئے گئے
آخری دن کی اہمیت
30 جون 88 تربیت کا آخری دن تھا۔ پرنسپل غلا م محمد صاحب نے سرٹیفیکٹ تقسیم کئے۔ ان کا الوادعی خطاب بھی بہت جاندار تھا۔ آدھ گھنٹہ وہ خوب بولے۔ ان کے خطاب میں ایمانداری کا درس، فرض سے لگن کی پہچان اور اچھے مستقبل کی نوید بھی تھی۔ مقامی حکومتوں کی اہمیت پر ان کا انداز بیان دلوں کو چھو رہا تھا۔ دوران تربیت توجہ نہ کرنے والے ان کی باتیں سن کر ضرور پچھتائے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر بحری سرگرمیوں میں اضافہ، مال برادر جہاز سامان لے کر پہنچ گیا
دوستوں کی یادیں
لنچ کے بعد ہم ایک دوسرے سے خوشی اور گرم جوشی سے گلے ملے کہ پھر نہ جانے کب کہاں ملاقات ہو۔ یہ 6 ہفتے ایک پل ہی لگے تھے۔ اس کے بعد ہم کبھی بھی سارے ایک ساتھ اکٹھے نہ ہو سکے۔ سبھی ان 6 ہفتوں کی اچھی یادیں لئے اپنے اپنے دفاتر روانہ ہوگئے۔ آج بھی کہیں مل بیٹھتے ہیں تو اُس دور کی باتیں دوڑی چلی آتی ہیں۔ بس ایک کسک رہتی ہے کہ کچھ چہرے جو ہمیشہ مسکراتے تھے اب اپنے ابدی گھروں کو جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ کے رہنما نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
سرکاری گھر کی تعمیر
دوران تربیت میرا سرکاری گھر مرمت کے بعد نئی لک دے رہا تھا۔ تھوڑی سی کوشش اور معمولی سی رقم سے اس کی شکل ہی بدل گئی تھی۔ میں یہ سمجھنے سے آج بھی قاصر ہوں کہ لوگ کیسے ٹوٹے گندے گھروں میں رہ لیتے ہیں۔ بعد میں سمجھ آیا ہم مرمت کی سرکاری گرانٹ بھی اپنے گھر اور اپنی موٹروں پر ہی خرچ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں کمسن بچی اغواء اور زیادتی کے بعد قتل، مجرم گرفتار، سخت سزا دی جائے گی : چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی
دوستی اور تعاون
ٹھکریاں یونین کونسلر مرزا احمد کا فرنیچر کا چھوٹا سا کاروبار تھا۔ ان سے کہہ کر میں نے اپنے لیے ایک سنگل بیڈ بنوا لیا۔ ان کی مہربانی یہ رہی کہ انہوں نے میرے بڑے اصرار کے بعد صرف ایک ہزار روپے مجھ سے مزدوری لی تھی۔ ویسے اس زمانے میں سنگل بیڈ 3 ہزار (3000) کا بنتا تھا۔ مرزا احمد بڑا شریف اور دید مرید والا انسان تھا۔ آج کل علی چک کے قریب اس کا فرنیچر کا اپنا شو روم ہے۔ ملاقات کیے ہوئے مدت ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب نے برائن لارا کا 31سالہ ریکارڈ توڑ دیا
نئی ذمہ داریاں
اب میری افسری کسی کی محتاج نہ رہی تھی۔ میں خود اس قابل ہو گیا تھا کہ سرکاری خط و کتابت درست انداز سے کر سکتا تھا، گو ابھی مجھے اور بہت کچھ جاننا تھا۔ زندگی میں سیکھنے کا عمل کبھی بھی رکتا نہیں ہے۔
نوٹ
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








