17.6 ٹریلین روپے کے بجٹ کی منظوری، آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط لگا دیں

آئی ایم ایف کی نئی شرائط

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن میں 17.6 ٹریلین روپے مالیت کے نئے بجٹ کی منظوری، بجلی کے بلوں پر ڈیٹ سروسنگ سرچارج میں اضافہ اور تین سال سے زائد پرانی استعمال شدہ کاروں کی درآمد پر پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی تینوں مسلح افواج کے لیے نئے ضابطوں کی منظوری دے گی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری سٹاف لیول رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اگر برقرار رہتی ہے یا مزید بگڑتی ہے تو اس سے پروگرام کے مالی، بیرونی اور اصلاحاتی اہداف کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی محمد ایاز شہید کی قبر پر حاضری، پھولوں کی چادر بھی چڑھائی

مارکیٹ کا ردعمل

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن اب تک مارکیٹ کا ردعمل معمولی رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ نے اپنے حالیہ فوائد کو برقرار رکھا ہے اور اس کے حصص میں تیزی آئی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: ایک ہفتے میں 25 ہزار سے زائد غیر ملکی گرفتار

بجٹ کی تفصیلات

آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کا دفاعی بجٹ 2.414 ٹریلین روپے ظاہر کیا ہے جو 252 ارب روپے یا 12 فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مقابلے میں حکومت نے بھارت کی جانب سے جارحیت کے بعد 2.5 ٹریلین روپے یا 18 فیصد زائد بجٹ مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل دبئی کی جانب سے وزیر مملکت / وزیر اعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان کے ساتھ انٹرایکٹو ملاقات کا اہتمام

قرضے کی شرائط

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے صرف 7 ارب ڈالر کے قرضے کی خاطر پاکستان پر مزید 11 شرائط عائد کی ہیں جس سے ادارے کی اب کل شرائط 50 ہوگئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی؛گھر میں چھریوں کے وار سے 3 خواتین قتل

تعمیراتی بجٹ

جون 2025 کے آخر تک پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے معاہدے کے مطابق 2026 کا بجٹ "آئی ایم ایف نے وفاقی بجٹ کا کل حجم 17.6 ٹریلین روپے" ظاہر کیا ہے جس میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 1.07 ٹریلین روپے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے نامور آرٹسٹ سعید کامرانی کے فن پاروں کی نمائش

صوبائی ٹیکس قوانین

بجٹ میں صوبوں پر بھی ایک نئی شرط عائد کی گئی ہے، صوبے جامع منصوبے کے ذریعے نئے زرعی انکم ٹیکس قوانین کو لاگو کریں گے جس میں ریٹرن کی کارروائی، ٹیکس دہندگان کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے ایک آپریشنل پلیٹ فارم کا قیام بھی شامل ہے۔ صوبوں کو اس کے لیے جون کے آخر تک کا وقت دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی اوساکا میں ایکسپو ایسوسی ایشن کے منتظم اعلیٰ اکی نوکی ماناٹسو سے ملاقات

گورننس ایکشن پلان

تیسری نئی شرط کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کی "معائنہ رپورٹ" کی سفارشات پر مبنی گورننس ایکشن پلان شائع کرے گی۔ رپورٹ کا مقصد گورننس کی اہم کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے عوامی سطح پر اصلاحاتی اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آپ ترقی کر رہے ہیں تو زندہ ہیں نہیں کر رہے تو شمار بھی مُردوں میں کیا جا سکتا ہے، کامیابی کی خواہش ابھار کر اپنے لیے تحریک اور حوصلہ مہیا کر سکتے ہیں

کیش ٹرانسفر پروگرام

چوتھی نئی شرط میں کہا گیا ہے کہ حکومت لوگوں کی حقیقی قوت خرید کو برقرار رکھنے کے لیے غیر مشروط کیش ٹرانسفر پروگرام کی سالانہ افراط زر کی ایڈجسٹمنٹ دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بھنگ کے کاشت کاروں کے گرد گھیرا تنگ، ملوث زمینداروں کی فہرست تیارکر لی گئی

مالیاتی حکمت عملی

ایک اور نئی شرط میں کہا گیا ہے کہ حکومت 2027 کے بعد کی مالیاتی شعبے کی حکمت عملی کا خاکہ تیار کرتے ہوئے ایک منصوبہ تیار کرے گی اور 2028 کے بعد سے ادارہ جاتی اور ریگولیٹری ماحول کا خاکہ پیش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟

توانائی کے شعبے میں تبدیلیاں

توانائی کے شعبے میں چار نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت توانائی کے نرخوں کو لاگت کی وصولی کی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے اس سال یکم جولائی تک سالانہ بجلی کے ٹیرف کی ری بیسنگ، 15 فروری 2026 تک توانائی کے نرخوں کو لاگت کی وصولی کی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے سالانہ گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایران، اسرائیل تنازع پر اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتے دکھائی دے رہے ہیں: برطانوی میڈیا کا دعویٰ

قانون سازی کی ضرورت

پارلیمنٹ اس ماہ کے آخر تک کیپٹو پاور لیوی آرڈیننس کو مستقل کرنے کے لیے قانون سازی کرے گی۔ حکومت نے صنعتوں کو نیشنل گرڈ میں منتقل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے لاگت میں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا بے روزگار ہاکی کھلاڑیوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان

توانائی کی پالیسیاں

پاکستان میں توانائی سے متعلق غلط پالیسیاں حکومت کی خراب حکمرانی کے علاوہ گردشی قرضے کے جمع ہونے کا سبب بن رہی ہیں۔ آئی ایم ایف نے ملک کو مختلف نئے قوانین کی پاسداری کے لیے ہدایت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریلوے کے مختلف گیجز کا مسئلہ 2010ء میں بھی کھڑا ہوا جب پاکستان سے مال گاڑی کو تجرباتی طور پر ایران کے راستے ترکی تک لے جایا گیا تھا۔

کامیابی کے معیار

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے دسمبر 2024 کے آخر تک 7 شرائط کے ساتھ کارکردگی کے معیار کو پورا کیا ہے، جس میں مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، نئے فائلرز سے ٹیکس ریٹرنز میں اضافہ شامل ہیں۔ بیشتر اہداف دسمبر کے آخر تک مکمل کر لیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج چوتھی برسی منائی جا رہی ہے

وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں

آئی ایم ایف کے مطابق حکومت کی صحت اور تعلیم کے اخراجات کے حوالے سے شرائط، ایف بی آر کی طرف سے جمع کردہ خالص ٹیکس منافع اور تاجر دوست سکیم کے تحت ریٹیلرز سے جمع ہونے والے خالص ٹیکس ریونیو کو ضائع کردیا گیا۔

صوبائی حکومتوں کی کارکردگی

رپورٹ کے مطابق متعلقہ صوبائی حکومتیں معاہدے کی منظوری کے لیے طے کئے گئے قانون سازی کے ڈھانچے بھی پوری اتریں۔ کم سرمایہ والے بینکوں کے مسائل اور دیگر کئی معاملات کو حل کرنے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...