مودی حکومت سیز فائر توڑنا چاہتی ہے لیکن ۔۔۔‘‘ حامد میر نے اہم انکشافات کر دیئے
حامد میر کی بیان: سیز فائر اور مسئلہ کشمیر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان کبھی سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کرے گا کیونکہ وہ مسئلہ کشمیر کو پرامن اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم مودی حکومت کے سیاسی عزائم سیز فائر کے خلاف ہیں اور وہ موقع ملنے پر اسے توڑنے کی کوشش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مچھ اسٹیشن پاکستان کے سب سے خوبصورت اسٹیشنوں میں شمار ہوتا ہے، وکٹورین طرز کی عمارت دیدنی اور شاندار ہے
بھارتی سیاست اور میڈیا
نجی ٹی وی آج نیوز کے پروگرام میں حامد میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سیاست اور اس کا میڈیا بالی ووڈ سے متاثر ہے، جو ہر چیز کو ایک فلمی اسکرپٹ کی طرح دکھاتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات اور برطانوی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اس بات کی نشاندہی ہے کہ عالمی سطح پر سیز فائر کے ختم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری داخلہ پنجاب کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس: شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کے پیش نظر اہم فیصلے
پاکستان کا موقف
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے کہا کہ مجھے یقین ہے پاکستان کبھی سیز فائر نہیں توڑے گا۔ پاکستان میننگ فل ڈائیلاگ کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتا ہے لیکن یہ مودی کے وارے میں نہیں ہے کیونکہ ان کی پارٹی اس خطے میں اکھنڈ بھارت بنانا چاہتی ہے اور انھوں نے اسے اپنی پارلیمنٹ میں آویزاں کر رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مودی حکومت اسپانسرڈ ٹیررازم کے ذریعے اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہی ہے اور سیز فائر اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی پنجاب میں گرمیوں کی تعطیلات 22 مئی سے شروع ہوں گی؟ وہ سب کچھ جو آپ کو جان لینا چاہیے
امریکی ثالثی کا کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے متعلق سوال پر حامد میر نے کہا کہ وہ اگرچہ امریکی پالیسیوں، خاص طور پر فلسطینیوں کے معاملے پر ٹرمپ کے سخت ناقد ہیں، لیکن کشمیر پر ان کی ثالثی اور سیز فائر کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوتھ تبدیلی کے محرکات ہیں، پاکستان کو درپیش آبادی کے انتظامی چیلنجز
تاریخی پس منظر
انھوں نے کہا، امریکہ 1957 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ انڈس واٹر معاہدہ جو 1960 میں ہوا، وہ 1957 میں ہونے والے ایک ایگریمنٹ کا نتیجہ تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر روز ویلٹ اور پاکستانی وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیہ 13 جولائی 1957 کو جاری ہوا، جو آج بھی یو ایس گورنمنٹ کے اسٹیٹ آف آرکائیو میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف پاکستانی میزائلوں کی کامیابی نے امریکی میزائل پروگرام کو تیز کردیا
بھارتی میڈیا کا اثر
حامد میر نے بھارتی میڈیا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا، میڈیا کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ جو کچھ انڈین میڈیا میں نظر آتا ہے، جھوٹ، افواہیں، تکبر اور رعونت، وہ سب بھارتی معاشرت کا عکس ہے۔ میں تمام بھارتی میڈیا کی بات نہیں کر رہا، کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جنھوں نے مودی کی اینٹی پاکستان پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی بڑی کامیابی؛ ایوان نمائندگان نے بھی متنازع بل منظور کرلیا
حامد میر کا تجربہ
پروگرام کے دوران انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات بھارتی صحافیوں نے انھیں فون کر کے پوچھا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں، کیونکہ انڈین چینلز پر یہ بریکنگ چل رہی تھی کہ بھارتی فوج اسلام آباد میں داخل ہو گئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف گرفتار ہو چکے ہیں اور جنرل عاصم منیر چین بھاگ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیمرا کی جانب سے کورٹ رپورٹنگ پر پابندی کالعدم قرار
ارنب گوسوامی پر تنقید
ارنب گوسوامی سے متعلق انھوں نے کہا، میرے ان سے ذاتی کوئی لڑائی نہیں۔ وہ کبھی ایک پروفیشنل صحافی تھے، لیکن اب وہ بی جے پی کے ترجمان بن چکے ہیں۔ ان کے چینل کو بی جے پی رہنما راجیو شیکھران فنڈ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ٹرمپ سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے،میرا ووٹ ہوتا توکملا ہیرس کوووٹ دیتی،عظمیٰ بخاری
برکھا دت کے ساتھ تعلقات
برکھا دت کے ساتھ ماضی کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ آگرہ مذاکرات کے دوران ان کا ردعمل نان پروفیشنل تھا، لیکن بعد میں ان کے تعلقات بہتر ہو گئے۔ نواز شریف کے دور میں وہ پاکستان آئیں، لاہور میں نواز شریف کا انٹرویو کیا اور واپس چلی گئیں۔
پاکستانی میڈیا کی آزادی
پاکستانی میڈیا کی آزادی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا، بھارتی میڈیا کو پاکستانی میڈیا سے سیکھنا چاہیے۔ ہم حکومتوں پر تنقید بھی کرتے ہیں، جب وہ اچھا کام کریں تو تعریف بھی کرتے ہیں۔ ہم پر پیکا لا نافذ کیا گیا، ہم عدالت گئے، مظاہرے کیے، لیکن صحافت سے پیچھے نہیں ہٹے۔








